Loading
کافی عرصے سے یہ کتاب موجود تھی۔ تاہم اتنی زیادہ کتابوں میں گھرا رہتا ہوں کہ بہت وقت گزر جاتا ہے، مگر پڑھ نہیں پاتا۔ اس نسخے کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا ہے۔ بہر حال پڑھنے بیٹھا تو مزا آ گیا۔ حد درجہ توجہ طلب کتاب ‘ جسے علامہ عبدالستار عاصم صاحب نے مجموعہ کی شکل دی ہے۔
قاسم علی شاہ نے نظر ثانی کا فرض ادا کیا ہے۔ اردگرد کے لوگوں کو دیکھیں تو بہت سے اچھے لوگ نظر آتے ہیں۔ مگر چند افراد ایسے ہوتے ہیں جن سے مل کر یا بات کر کے خوشی نہیں ہوتی ۔ کوشش ہوتی ہے کہ ان سے مکالمہ کی نوبت ہی نہ آئے ۔
مگر آپ کوشش کے باوجود انھیں رد نہیں کر سکتے۔ اس کتاب میں انتہائی محنت سے یہ بتایا گیا ہے کہ زہر آلود افراد کے ساتھ کیسے پیش آیا جائے۔ حد درجہ اہم نکتہ ہے اور یہ ہنر سب کے پاس نہیں ہوتا کہ وہ منفی لوگوں سے بھی گزارا کر پائے۔ اس نسخہ سے چند اقتباسات پیش کروں گا۔
مشہور ماہر نفسیات البرٹ ایلس نے کہا تھا: ’’ہمیں کوئی شخص پریشان نہیں کر سکتا جب تک ہم خود اس کی اجازت نہ دیں‘‘۔زندگی مختصر ہے۔ وقت قیمتی ہے۔ اسے منفی رویوں‘ لڑائی جھگڑوں غصے اور خوف میں ضایع نہ کریں۔ اس کے بجائے صبر‘ ہم دردی محبت‘ نرمی اور سمجھ بوجھ کا راستہ اختیار کریں۔ اس سے آپ اپنے رشتوں میں ہم آہنگی اور اپنی زندگی میں سکون لا سکیں گے اور دنیا کو بہترین جگہ بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں گے۔(ڈاکٹر ڈیبی جوفی ایلس)
انسان اور سہہ میں مشابہت: انسانوں میں موجود ’’سہہ فطرت‘‘ اور ’’چبھنے والے‘‘ لوگ عام انسانوں کی طرح ہی ہوتے ہیں۔ البتہ جب وہ کسی خطرے یا مداخلت کا سامنا کرتے ہیں تب وہ بالکل سہہ کی طرح خود کو پھلا کر بڑا دکھانے اور دوسروں کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بدقسمتی سے انسانوں میں پایا جانے والا یہ دفاعی رویہ دیر سے جاگتا ہے۔ یعنی یہ لوگ اس وقت رد عمل دکھاتے ہیں جب کوئی شخص ان کی حد میں داخل ہو جاتاہے اور یہ خود کو دفاعی حالت میں محسوس کرنے لگتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ اگر کبھی آپ ایسے شخص کی حدود میں گھس جائیں تو اس مسئلے کو حل کیسے کریں گے؟
صورت حال کو بہتر کیسے بنائیں گے اور آئندہ ٹکراؤ سے کیسے بچیں گے؟ اس سلسلے کا پہلا قدم یہ ہے کہ آپ سہہ کی فطرت والے انسان کو اچھی طرح سمجھ لیں اور اپنے رویے کو اس کے مطابق ڈھال لیں۔
اپنے کانٹے اندر ہی رکھیں: ’’چبھنے والے‘‘ لوگ جب دفاعی رویہ اپناتے ہیں تو اس کی وجہ سے دوسرے لوگوں میں بھی وہی رد عمل پیدا ہو جاتا ہے۔ زیادہ تر لوگ ان سے بحث کے دوران دفاعی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
لیکن آپ نے ایسا نہیں کرنا! آپ فوراً لڑائی شروع کرنے کے بجائے یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اسے کیا تکلیف ہے۔ ایک قدم پیچھے ہٹیں گہرا سانس لیں اور دوبارہ کوشش کریں۔ اپنے کانٹوں کو اپنے قابو میں رکھیں۔
نرم گوشہ تلاش کریں: جیسے جانور کا پیٹ نرم ہوتا ہے‘ ویسے ہی ہر انسان کے اندر بھی جذباتی ’’نرم گوشہ‘‘ ضرور ہوتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کریں کہ بھرپور توجہ اور حکمت عملی کے ذزیعے آپ اس کا نرم گوشہ دریافت کر سکتے ہیں۔
یہ ایسا موضوع ہو سکتا ہے جو اس کے چہرے پر مسکراہٹ لائے اور اسے خوشی دے دے۔ یہ کوئی شوق‘ پسندیدہ مشغلہ یا کسی اپنے کی یاد بھی ہو سکتی ہے۔ وہ باتیں ڈھونڈیں جو ’’چبھنے والے‘‘ انسان کو خوش کریں اور اس کا حوصلہ بلند کریں۔ اس تدبیر کی بدولت اسے محسوس ہو گا کہ آپ اسے عزیز رکھتے ہیں اور واقعی اس کا خیال رکھتے ہیں۔
اس کی فطرت کے مطابق بات کریں: چبھنے والا انسان جب غصے میں ہو تو اس سے بات کریں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ وہ کس وجہ سے غصے میں ہے۔ اس کا غصہ ختم کرنے کا ایک بہترین طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ اسے بتائیں کہ آپ کو کیسی باتوں پر غصہ آتا ہے۔
جب آپ اس کی فطرت کے مطابق اس سے بات کریں گے تو اسے معلوم ہو گا کہ آپ اس کی کیفیت کو محسوس کر رہے ہیں اور اس کے ہم درد ہیں۔
’’چبھنے والے‘‘ فرد کو دل کی بھڑاس نکالنے دیں: اپنا دل ہلکا کرنے کی ضرورت ہر انسان کو ہوتی ہے۔ اگر’’چبھنے والا‘‘ شخص ایسا کرے تو اسے کرنے دیں۔ اس معاملے میں اس کی حوصلہ افزائی کرنا تبدیلی کی جانب پہلا قدم ہے۔
دراصل وہ جب بھی اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہتا ہے تو اسے رکاوٹ محسوس ہوتی ہے ‘ اسی وجہ سے وہ ’’چبھنے والا‘‘ فرد بن جاتا ہے۔ وہ دوسرے لوگوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈرتا ہے۔
اس لیے آپ اس کے جذبات سمجھیں۔ وہ کچھ بھی کہتا ہے تو اسے کہنے کی اجازت دیں۔ یاد رکھیں: آپ اس کی مدد کر سکتے ہیں ۔ آپ کی محبت اور توجہ ’’چبھنے والے‘‘ فرد کو پر سکون کرنے میں اہم ترین کردار ادا کر سکتی ہے۔
حدود واضح کریں: اگر آپ نے اپنی حدود واضح نہیں کی ہیں تو آپ ’’چبھنے والے‘‘ انسان پر یہ الزام نہیں لگا سکتے کہ اس نے آپ کی حدود پامال کی ہیں۔ آسان الفاظ میں‘ جب تک آپ اپنی ضروریات یا حدود واضح طور پر بیان نہیں کریں گے‘ ’’چبھنے والا‘‘ انسان ان کا احترام نہیں کر سکے گا۔ پہلا قدم آپ نے اٹھانا ہے: اپنی حدود واضح کر یں۔
ہمیشہ حق پر ہونے کی خواہش چھوڑیں: کوئی بھی انسان ہمیشہ درست نہیں ہوتا‘ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اکثر اوقات ہم درست نہیں ہوتے۔ہم نامکمل ہیں لیکن اس کے باوجود دوسروں کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ سب کچھ ہمارے قابو میں ہے‘ بلکہ ہم اصرار کرتے ہیں کہ کمزوری ہم میں نہیں کسی اور شخص میں ہے۔
اگر آپ ’’چبھنے والے‘‘ انسان کے ساتھ تعلق میں بھی اس طرح کی سوچ اپنائیں گے تو یہ آپ کو تباہی کی طرف لے جائے گی۔ یاد رکھیں‘ ہمارے پاس بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کی بدولت ہم خود کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ بہت سے مواقع ہیں جہاں ہم اپنی بری عادات سے چھٹکارا پا سکتے ہیں‘ اس لیے عاجز رہیں۔ خود کو ہمیشہ حق پہ ثابت کرنے کی کوشش آپ کو فائدہ نہیں دے گی۔
عقل کا استعمال کریں جذبات کا نہیں: ’’چبھنے والے‘‘ ہم سفر سے نپٹنے کا ایک بہترین اصول عقل پسندی ہے۔ کیوں کہ ایسے انسان کے سامنے جب جذبات یا غیر منطقی رد عمل کا اظہار کیا جائے تو وہ دفاعی رویہ اختیار کر لیتا ہے۔
جب آپ مسئلے پر ٹھنڈے دل و دماغ سے روشنی ڈالیں گے تو وہ سخت رد عمل بھی نہیں دے گا۔ لہٰذا ہر مسئلے کو پر سکون اور منطقی انداز میں دیکھیں‘ اس مثبت رویے کی وجہ سے آپ کے ’’چبھنے والے‘‘ شریک حیات کی ضد اور چڑچڑا پن کم ہو جائے گا۔
موضوع پرقائم رہیں:’’چبھنے والا‘‘ انسان خود کو بچانے کے لیے مخاطب کی توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ الزام تراشی کرتا ہے‘ یا لمبی لمبی وضاحتیں دیتا ہے تاکہ دوسرے فرد کی توجہ اصل مسئلہ سے ہٹائے اور اسے کسی اور بحث میں مصروف کر دے۔
یہ ایک روایتی چال ہے! اس جال میں نہ پھنسیں ۔ یاد رکھیں کہ ’’چبھنے والے‘‘ انسان کے ساتھ تنازعہ جلد ختم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ موضوع پر ڈٹے رہیں ۔ اپنی توجہ ہٹنے نہ دیں۔
یہ بات جان لیں کہ پیچھے کب ہٹنا ہے, رحم دل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ حد سے زیادہ لچک دار یا کمزور بن جائیں۔ اگر کبھی ’’چبھنے والا‘‘ فرد کچھ مسائل کا شکار ہو اور وہ آپ سے بیان کرنا چاہتا ہو تو آپ اس کی بات سنیں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ مثبت انداز میں بات کرے‘ اگر وہ باتوں باتوں میں آپ کی ذات کو نشانہ بنانا شروع کر دے تو آپ کو یہ حق حاصل ہے کہ اس کی بات سننا چھوڑ دیں اور وہاں سے ہٹ جائیں۔
ہم درد بنیں: ’’چبھنے والے‘‘ انسان سے محبت کرنے کے لیے بڑی ہمت اور حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ خود سے سوال پوچھیں: وہ کیا محسوس کر رہا ہے؟ اگر میں اس کی جگہ ہوتا تو کیسا محسوس کرتا؟
اور اگر کسی کو میرے ساتھ ایسا رویہ رکھنا پڑے تو وہ کیسا لگے گا؟ ایسے انسان کے ساتھ ذمے داری اور محبت کا رویہ اختیار کرنے کے لیے جذباتی پختگی اور ہم دردانہ سوچ ضروری ہے۔
نرم مزاجی سے حملہ روکیں: ’’چبھنے والے‘‘ افراد تب حملہ آور ہوتے ہیں جب وہ خطرہ محسوس کرتے ہیں‘ اسے روکنے کا بہترین طریقہ مہربانی اور نرم مزاجی ہے۔ مہربان الفاظ اور پیار بھرا رویہ ان کی بدمزاجی کو ختم کر دیتا ہے۔ جب ’’چبھنے والے‘‘ شخص کو معلوم ہو جائے کہ آپ اس کے لیے خطرہ نہیں ہیں تو اس احساس سے اس کا غصہ کم ہو جائے گا۔
لیکچر مت دیں: سمجھائیں ‘ بات کو کھولیں‘ لیکن لیکچر مت دیں۔ ’’چبھنے والے‘‘ بچوں کے ساتھ بات چیت کا مقصد ان کے دل کی بات باہر لانا ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر آپ لیکچر والا انداز اپنائیں گے تو وہ خاموش رہیں گے‘ تقریر کرنے کے بجائے دلچسپ انداز اپنائیں ۔
آخر میں وکٹر ہیوگو کے یہ انمول جملے رقم کرتا ہوں: زندگی کی سب سے بڑی خوشی یہ یقین ہے کہ ہم سے محبت کی جاتی ہے‘ ایسی محبت جو ہماری اصل ہستی سے ہو‘ یا یوں کہیے کہ ہماری خامیوں اور کمزوریوں کے باوجود بھی ہم سے کی جاتی ہو۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل