Loading
ملک کی گزشتہ تقریباً نصف صدی کی سیاسی تاریخ میں دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) انتخابی معرکے میں ایک دوسرے کے خلاف پنجہ آزمائی کرتی رہی ہیں۔ دونوں جماعتوں کے اکابر رہنما اور ان کے نائبین اور پیروکار ایک دوسرے کے خلاف سخت لب و لہجے میں بیانات دیتے رہے ہیں۔
12 اکتوبر 1999 کو مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو، جب وہ غیر ملکی دورے پر تھے، عہدے سے برطرف کرکے ان کی جگہ ایک نئے آرمی جنرل کو چیف آف آرمی اسٹاف تعینات کر دیا لیکن نتیجتاً جنرل پرویز مشرف نے وزیر اعظم نواز شریف کو برطرف کرکے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔
میاں صاحب جیل چلے گئے، ان پر طیارہ اغوا کا کیس بنا اور عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ میاں صاحب اپنے خاندان سمیت ڈیل کرکے سعودی عرب چلے گئے۔ میاں صاحب آج تک یہ گلہ کرتے ہیں کہ انھیں کیوں نکالا گیا۔
گلگت بلتستان کی حالیہ انتخابی مہم کے دوران بھی میاں صاحب نے لوگوں سے ایک بار پھر یہی سوال کیا کہ ’’مجھے کیوں نکالا گیا؟‘‘ افسوس کہ میاں صاحب کو آج تک اس سوال کا کوئی شافی جواب نہ مل سکا۔
البتہ یہ ضرور ہوا کہ مشرف مارشل لا کے بعد ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو شہید نے ملک کی آئندہ سیاست میں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونے کی بجائے قومی مفادات کے تقاضوں کے مطابق مثبت سیاست کرنے کا عہد کرتے ہوئے 14 مئی 2006 کو لندن میں ایک ’’میثاق جمہوریت‘‘ پر دستخط کیے جو آٹھ صفحات پر مشتمل ہے جس میں کہا گیا کہ مشرف حکومت کی طرف سے متعارف کی گئی آئینی ترامیم، نیشنل سیکیورٹی کونسل، احتساب اور عام انتخابات کے علاوہ دیگر حوالوں سے بھی ایک مشترکہ موقف اختیار کیا جائے گا۔
توقع یہ کی جا رہی تھی کہ دونوں جماعتیں ’’میثاق جمہوریت‘‘ کے مطابق قومی مفادات کے تحفظ کی خاطر پارلیمنٹ کی بالادستی، جمہوریت کی بقا اور سب سے بڑھ کر 1973 کے آئین و قانون کی حکمرانی کے لیے قومی سیاست میں مثالی کردار ادا کریں گی، شفاف انتخابات اور کڑے احتساب سے لے کر غیر سیاسی قوتوں کے آئینی کردار تک ایک مشترکہ بیانیہ کے تحت اپنا اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کریں گی۔
’’میثاق جمہوریت‘‘ کو پہلا جھٹکا اس وقت لگا جب جولائی 2007 میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں صدر جنرل پرویز مشرف کی وردی کے معاملے پر استعفیٰ دینے کی بات پر پیپلز پارٹی اور دوسری اپوزیشن جماعتوں میں اختلافات سامنے آئے جن کی شدت نے دونوں بڑی جماعتوں کے راستے پھر جدا کر دیے اور میاں نواز شریف نے ملک کی بڑی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے بغیر ہی آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ (APDM) بنائی جس کے کنوینر محمود خان اچکزئی تھے۔
مبصرین و تجزیہ نگاروں کے مطابق ’’میثاق جمہوریت‘‘ کے بیشتر نکات پر عمل درآمد نہ ہو سکا جو اس امر کا عکاس ہے کہ سیاسی جماعتیں کسی میثاق جمہوریت کی بجائے اپنے اپنے سیاسی مفادات کو اہمیت اور ترجیح دیتی ہیں، جس کا مظاہرہ پوری قوم گزشتہ چند برسوں سے آج تک دیکھ رہی ہے۔
پھر یہ سوال تو بنتا ہے کہ آج حکومت کس بنیاد پر اپوزیشن (پی ٹی آئی) کو میثاق جمہوریت کی دعوت دے رہی ہے؟ جیساکہ وزیر اعظم نے بجٹ اجلاس کے دوران قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین، قانون اور جمہوریت کے فروغ کے لیے اپوزیشن سے بات چیت کے لیے تیار ہیں، آئیں مل کر بیٹھیں اور میثاق معیشت اور میثاق جمہوریت کی طرف قدم بڑھائیں۔
حکومت ماضی قریب میں بھی پی ٹی آئی سے مذاکرات کر چکی ہے لیکن دونوں جانب سے اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کے باعث نتیجہ دھاک کے تین پات نکلا۔ حکومت اور پی ٹی آئی دونوں کو مذاکرات میں افہام و تفہیم اور لچکدار رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر مفاہمت اور مذاکرات کو نتیجہ خیز بنایا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے غیر معمولی سفارت کاری اور لچکدار مذاکرات کے ذریعے ہی امریکا و ایران کے درمیان امن معاہدے کے ذریعے مشرق وسطیٰ کے امن کو یقینی بنایا جسے پوری دنیا میں سراہا جا رہا ہے۔
آج آزاد جموں و کشمیر میں بھی حالات سخت کشیدہ ہیں جس سے ہمارا ازلی دشمن بھارت فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ وزیر اعظم پہل کریں، مفاہمت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں اور اپوزیشن (پی ٹی آئی) سے نتیجہ خیز مذاکرات کی راہ ہموار کریں۔ آج کی حکومت کن بے ساکھیوں پر کھڑی ہے سب جانتے ہیں، میثاق جمہوریت سے پہلے میثاق آئین 73 کی پاسداری کریں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل