Sunday, June 21, 2026
 

عظیم کامیابی کے بعد

 



ایران امریکا معاہدہ ہو گیا۔ گویا جنگ بند ہو گئی۔ یہ بہت اہم ہے لیکن اس سے بھی اہم ایک اور سوال ہے۔ سوال یہ ہے کہ جنگ ہو یا امن کا معاہدہ اور اس معاہدے کے لیے پاکستان کی سفارت کاری اور اس سے وابستہ دیگر واقعات سے ہم نے کیا سیکھا؟ جہاں تک جنگ کا معاملہ ہے۔ یہ کثیر پہلو ہے۔ لمحۂ موجود میں اس کی سب سے بڑی اہمیت وہ استقامت ہے جو ایران نے دکھائی۔ انقلاب کے بعد جو حالات پیدا ہوئے، یہ جنگ اس کا ناگزیر نتیجہ تھی۔ عمومی تاثر یہی تھا کہ امریکا اور اسرائیل اپنی قوت قاہرہ کے ساتھ ایران پر جس طرح پل پڑے ہیں، ایران اس کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکے گا۔ انقلابی نظام ٹوٹ پھوٹ جائے گا اور دشمن وہاں اپنی مرضی کا نظام مسلط کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ سنتے ہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چودہ نکاتی معاہدے پر اتفاق ہوا ہے۔ ان نکات میں جو کچھ بھی شامل کر لیا گیا ہو یعنی آبنائے ہرمز ٹیکس فری ہو گی اور ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا، وغیرہ۔ اس کی اہمیت نہیں۔ اہمیت اس جنگ کے نتیجے کی ہے۔ اس جنگ کا نتیجہ سمجھنے کے لیے امریکی اور اسرائیلی قیادت کے عزائم اور اس ضمن میں ان کے کھلم کھلا اعلانات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان دونوں قوتوں نے کوئی پردہ رکھے بغیر بارہا کہا کہ اس جنگ کا مقصد ایرانی نظام کی تبدیلی ہے۔ جنگوں میں ہار جیت کا ہزاروں برس پرانا اصول یہ ہے کہ جس فریق کے سپہ سالار کو گرفتاری یا موت کی صورت میں منظر سے ہٹا دیا جائے تو اسے شکست ہو جاتی ہے۔ جنگ کے پہلے ہی مرحلے میں یہ ہو گیا۔ فوجی قیادت ہی نہیں ایران کے رہبر معظم آیت اللہ العظمی سید خامنہ ای کو بھی شہید کر دیا گیا۔ کسی قوم کا حوصلہ توڑنے کے لیے اس سے بڑی کوئی ضرب ہو نہیں سکتی۔ ایران یہ وار سہہ گیا۔ اس کے بعد جنگ اصولاً ختم ہو جانی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ دونوں دشمنوں نے ایران کو کھنڈر بنانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اس کے باوجود ایران ثابت قدم رہا۔ آج ایران کا نظام بھی برقرار ہے اور دشمن بھی پیچھے ہٹ چکا ہے۔ دنیا اپنے تعصبات اور مفادات کے زیر اثر اسے ایران کے دشمنوں کی شکست تسلیم کرے یا نہ کرے، ہے یہ شکست۔ ایران اس آزمائش میں سرخرو نکلا ہے یعنی کامیابی نے اس کے قدم چومے ہیں۔ ایران کی اس عظیم النظیر کامیابی میں کئی شاندار سبق موجود ہیں۔ ایک سبق یہ ہے کہ دنیا آپ کے ساتھ ہو یا نہ ہو، آپ وسائل رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں، آپ ثابت قدم رہیں۔ کامیابی بھی گرتی پڑتی آپ کے قدموں میں آن گرے گی۔ ایران نے یہی کیا اور کامیابی اس کی دہلیز پر آن کھڑی ہوئی۔ یہ درست ہے کہ عزت نفس کا احساس قوموں کو طاقت عطا کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ ایک اور چیز بھی ضروری ہے۔ یہ وہی چیز ہے جسے قرآن حکیم میں گھوڑے تیار رکھنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ایران گزشتہ نصف صدی سے دنیا سے کٹا ہوا تھا۔ اس کی ٹیکنالوجی ازکار رفتہ ہو چکی تھی۔ اس کے اثاثے ضبط کر لیے گئے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینے کا بندوست مکمل تھا۔ یہ زمینی حقیقت تھی، ایران کچھ بھی کر لیتا، اس میں فرق آنے کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا۔ ایران نے اس صورت حال سے گھبرا کر ہتھیار ڈال دینے کے بہ جائے دست یاب وسائل میں سے اپنے لیے موزوں راستہ نکالنے کی کوشش کی۔ یہ ایران کا میزائل پروگرام تھا جو کاٹھ کباڑ کے ڈھیر سے شروع ہوا لیکن آزمائش کی کٹھن گھڑی میں ایران کی سب سے بڑی قوت بن گیا۔ یہی قوت ہے نہ صرف ایران کی سلامتی کی ضمانت ثابت ہوئی بلکہ اس نے دشمن کو بھی جھکنے پر مجبور کر دیا۔  اقبال نے پیام مشرق کی پہلی نظم پیشکش میں یہی نصیحت کی ہے کہ قوموں کی بقا، سلامتی اور احترام کا راز قوت اور وسائل میں پوشیدہ ہے۔ ان دونوں چیزوں کا حصول علم اور پہاڑوں کا سینہ چیر کر ان میں چھپے ہوئے خزانوں کی دریافت اور ان کے استعمال میں ہے۔ ایران نے یہی کیا ہے۔ ایران کی اس مثال میں دنیا کی تمام کمزور قوموں کے لیے سبق ہے۔ ایران کی استقامت نے اسے کامیابی ضرور دلائی ہے۔ اس کامیابی کے بعد ایران کو یہاں رکنا نہیں ہے۔ آگے بڑھنا ہے کیونکہ کشمکش زندگی کے ساتھ چلتی ہے۔ ایک امتحان کے بعد دوسرا امتحان ہے۔ اس معرکے سے سرخ رو گزرنے کے بعد کرنے کا ایک کام زمانہ امن میں بھی ہے۔ اس کام کی طرف ایک ایرانی راہ نما نے اشارہ بھی کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ جنگ کے بعد عرب دنیا کے ساتھ ایران کے تعلقات کا ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے۔ امکان یہی ہے یہ دور ایران اور عرب دنیا کو عرب و عجم کی تاریخی تفریق سے بلند کر کے ایک نئی دنیا تخلیق کرے گا۔ اس مرحلے پر جہاں عرب ہمسایوں کو بہت سی احتیاط کرنی ہے، وہیں ایران کو ان سے بڑھ کر احتیاط سے کام لینا ہے۔ اس بات کو اگر یوں کہا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا کہ ایران اور دوسروں کو اختلاف کے باوجود تعلق برقرار رکھنے کا اسلوب سیکھنا ہو گا۔ ایسا ہو گیا تو ایران ہی نہیں عرب بھی ایک نئی اور خوش گوار زندگی کے ذائقے سے لطف اندوز ہوں گے۔ ہمارے پڑوس میں جو نئی دنیا ظہور میں آ رہی ہے، سب جانتے ہیں کہ پاکستان کے اخلاص اور اس کی محنت شاقہ نے اسے ممکن بنایا ہے۔ یہ ایک نئی قسم کی سفارت کاری ہے۔ سفارت کاری کے اس اسلوب کا بانی اور خاتم پاکستان ہے۔ اللہ نے پاکستان کو یہ عزت داخلی اتحاد کی بہ دولت عطا فرمائی ہے۔ ایران کی طرح پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ صرف اس عزت کی حفاظت ہی نہ کرے بلکہ اس میں اضافہ کرے۔ پاکستان کے اس نئے اور کامیابی سے چمکتے ہوئے چہرے کی حفاظت کیسے ممکن ہے؟ یہ جاننے کے لیے معاشی طور پر بے بس اور عالمی برادری سے کٹے ہوئے پاکستان کو یاد کیجیے۔ یہی پاکستان امریکا ایران جنگ کے عظیم عالمی بحران میں امن کا پیامبر بن کر ابھرا۔ اس کے بعد وہ خطے کا سب سے بڑا سیکیورٹی پرووائیڈر بن گیا۔ جنگ کے خاتمے کے بعد وسائل اور کاروبار کے عظیم مواقع پاکستان کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ ہمیں نہ صرف ان کا بہترین استعمال کرنا ہے بلکہ اپنے عوام کی زندگی میں بھی خوشیاں اور آسودگی لانی ہے کیونکہ وہ دہائیوں سے قربانیاں دیتے اور پستے چلے آ رہے ہیں۔ ہم اپنی کامیابی کو اپنے عوام کو خوش کر کے ہی محفوظ بنا سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے عوام کی قیمت پر استوار استحصالی نظام میں عوام کے لیے وہ گنجائش پیدا کرنی ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل