Loading
عالمی سیاست کے افق پر بعض لمحے ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے کا رخ متعین کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ اس وقت اسی نوع کے ایک فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں جنگ اور امن، تصادم اور مفاہمت، طاقت اور تدبر۔سب ایک ہی منظرنامے میں آمنے سامنے کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک جانب دہائیوں پر محیط امریکا،ایران کشیدگی اپنی تمام تر پیچیدگیوں کے ساتھ موجود ہے، تو دوسری جانب سوئٹزرلینڈ کی خاموش وادیوں میں جاری مذاکرات ایک نئی امید، ایک نئے سیاسی توازن اور ایک ممکنہ علاقائی استحکام کا عندیہ دے رہے ہیں۔
یہ محض دو ریاستوں کے درمیان تعلقات کی بحالی کا سوال نہیں بلکہ پورے خطے کے مستقبل، عالمی اقتصادی استحکام اور بین الاقوامی امن کے امکانات سے جڑا ایک ہمہ گیر معاملہ ہے۔ ایسے وقت میں جب لبنان کی سرزمین پر بارود کی بو ابھی پوری طرح تحلیل نہیں ہوئی، غزہ مسلسل خون آشام جارحیت کی زد میں ہے، اور آبنائے ہرمز جیسی حساس گزرگاہ عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا آغاز غیر معمولی معنویت اختیار کر جاتا ہے۔
سفارت کاری کی دنیا میں اکثر خاموش کمروں میں ہونے والی گفتگو میدانِ جنگ کے شور سے کہیں زیادہ اثر رکھتی ہے، کیونکہ توپوں کی آواز وقتی خوف پیدا کرتی ہے، مگر مذاکرات کی میز مستقبل کی سمت متعین کرتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں جاری حالیہ مذاکرات کو محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے ممکنہ سیاسی مستقبل کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ سمجھا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ طاقت کے زور پر قائم ہونے والے توازن عموماً عارضی ہوتے ہیں، جب کہ پائیدار امن کی بنیاد مذاکرات، اعتماد سازی اور مفادات کے معقول توازن پر استوار ہوتی ہے۔ امریکا اور ایران کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے بداعتمادی، پابندیوں، پراکسی کشمکش اور عسکری دباؤ کے گرد گھومتے رہے ہیں۔
ان دونوں ممالک کے مابین ہر معاہدہ محض سفارتی دستاویز نہیں بلکہ ایک نفسیاتی رکاوٹ کو عبور کرنے کی کوشش بھی ہوتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں جاری یہ مذاکرات غیر معمولی حساسیت رکھتے ہیں۔ سوئس وزارتِ خارجہ کی جانب سے مذاکراتی عمل کی رازداری پر زور دینا بھی اسی حقیقت کا مظہر ہے کہ بعض سفارتی کامیابیاں شور و غوغا سے نہیں بلکہ خاموش اور محتاط گفت و شنید سے جنم لیتی ہیں۔
اس تمام عمل میں سب سے قابلِ توجہ پہلو پاکستان اور قطر کا ثالثی کردار ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں ثالثی صرف رسمی شرکت کا نام نہیں بلکہ اس کے لیے اعتماد، رسائی اور توازن درکار ہوتا ہے۔
پاکستان کو یہ امتیاز حاصل ہوا ہے کہ اس کے امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ ایسے تعلقات موجود ہیں جن کی بنیاد مکمل تصادم یا مکمل انحصار پر نہیں بلکہ محتاط سفارتی توازن پر قائم ہے۔
یہی وہ وصف ہے جس نے پاکستان کو اس پیچیدہ سفارتی عمل میں ایک مؤثر پل کے طور پر ابھارا ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سوئٹزرلینڈ میں موجودگی اس امر کی غماز ہے کہ پاکستان نے اس موقع کو محض رسمی سفارتی شرکت نہیں سمجھا بلکہ اسے اپنی عالمی حیثیت کے ایک اہم امتحان کے طور پر لیا ہے۔
بلومبرگ سمیت متعدد عالمی مبصرین کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا دراصل پاکستان کی سفارتی صلاحیت کا اعتراف ہے۔ ایک عرصے تک پاکستان کو صرف سیکیورٹی یا جغرافیائی سیاست کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا، مگر حالیہ پیش رفت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان خطے میں بحرانوں کے حل میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہ پاکستان کے لیے محض سفارتی کامیابی نہیں بلکہ عالمی سطح پر اعتماد سازی کا ایک اہم سرمایہ بھی ہے، اگر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت شروع ہونے والا یہ عمل کامیاب رہتا ہے تو پاکستان کی حیثیت ایک ذمے دار علاقائی قوت کے طور پر مزید مستحکم ہوگی۔
دوسری طرف امریکی سیاسی رویے میں بھی ایک دلچسپ تضاد دکھائی دیتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات بظاہر اعتماد سے بھرپور ہیں، مگر ان کے اندر طاقت کے اظہار اور سفارتی دباؤ دونوں کے عناصر موجود ہیں۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے ان کا یہ کہنا کہ ٹول عائد کرنے کا اختیار صرف امریکا کے پاس ہے، دراصل عالمی بحری تجارت اور سلامتی پر امریکی بالادستی کے تصور کی عکاسی کرتا ہے۔ امریکا خود کو مشرق وسطیٰ کا نگہبان قرار دیتا ہے، مگر یہی تصور خطے کے کئی ممالک میں بے اعتمادی کو بھی جنم دیتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا سلامتی کو مالیاتی دباؤ یا اسٹرٹیجک محصول کے تصور سے جوڑا جا سکتا ہے؟ عالمی سیاست میں طاقت کا استعمال نیا نہیں، مگر جب اسے اقتصادی جبر کے ساتھ ملایا جائے تو اس کے اثرات کہیں زیادہ پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ دنیا کے تیل اور مائع گیس کی ایک بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے، اگر یہ راستہ حقیقتاً بند ہو جائے یا مسلسل خطرات کی زد میں رہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، ایندھن کی قیمتوں اور صنعتی پیداوار پر بھی مرتب ہوں گے۔
ایران کی جانب سے ہرمز کی بندش کی دھمکی یا عملی اقدام دراصل ایک اسٹریٹجک اشارہ ہے کہ تہران اپنے جغرافیے کو سفارتی قوت کے طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسی حکمت عملی طویل مدت میں خود ایران کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے، کیونکہ عالمی ردعمل مزید سخت پابندیوں یا عسکری دباؤ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
اس پورے بحران میں ایک اور فیصلہ کن عنصر اسرائیل ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مفاہمت پر اسرائیلی حکومت اور میڈیا کی بے چینی غیر معمولی نہیں۔ اسرائیل طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے لیے وجودی خطرہ قرار دیتا آیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہر سفارتی قربت تل ابیب میں تشویش پیدا کرتی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کی جانب سے امریکی صدر پر طنز دراصل اسی اضطراب کی علامت ہے۔ مگر اصل مسئلہ طنز یا بیان بازی نہیں بلکہ زمینی حقائق ہیں۔
لبنان میں اسرائیلی حملوں کا جاری رہنا اس پورے سفارتی عمل کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی محض سرحدی جھڑپ نہیں بلکہ ایک وسیع تر علاقائی تصادم کا امکان رکھتی ہے۔
اگر لبنان میں جنگ بندی مسلسل پامال ہوتی رہی تو ایران پر داخلی اور علاقائی دباؤ بڑھے گا کہ وہ زیادہ سخت موقف اختیار کرے۔ ایسے حالات میں امریکا اور ایران کے درمیان حاصل ہونے والی پیش رفت کمزور پڑ سکتی ہے۔ سفارت کاری اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب میدانِ جنگ نسبتاً خاموش ہو، جب توپوں کی گھن گرج بڑھ جائے تو مذاکراتی میز اکثر غیر مؤثر ہو جاتی ہے۔
یہاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی مذاکرات میں براہ راست شرکت بھی اہم ہے۔ ان کی موجودگی اس امر کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن اس عمل کو ثانوی نہیں سمجھ رہا۔ اعلیٰ سطح کی شرکت عام طور پر دو پیغامات دیتی ہے۔
پہلا یہ کہ مذاکرات سنجیدہ ہیں، دوسرا یہ کہ ناکامی کی قیمت بھی زیادہ ہوگی۔ امریکا شاید یہ سمجھ چکا ہے کہ مسلسل کشیدگی نہ صرف عسکری اخراجات میں اضافہ کرتی ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کی ترجیحات کو بھی متاثر کرتی ہے، خصوصاً ایسے دور میں جب بڑی طاقتوں کی مسابقت نئے مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔
ایران کے لیے بھی یہ مذاکرات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ معاشی پابندیاں، داخلی اقتصادی دباؤ اور علاقائی تناؤ نے تہران کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں مکمل تصادم اس کے لیے مہنگا پڑ سکتا ہے۔
تاہم ایران اپنی اسٹرٹیجک خودمختاری پر سمجھوتہ کرنے کے لیے بھی آمادہ نظر نہیں آتا۔ یہی بنیادی کشمکش مذاکرات کا اصل محور ہے، کس حد تک اعتماد بحال ہو سکتا ہے، اور کس حد تک ہر فریق اپنی سرخ لکیروں کو برقرار رکھ سکتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگ کا آغاز اکثر آسان اور اختتام نہایت دشوار ہوتا ہے۔ امن اس کے برعکس مشکل آغاز مگر نسبتاً پائیدار انجام رکھتا ہے۔ آج مشرقِ وسطیٰ اسی انتخاب کے دہانے پر کھڑا ہے۔
طاقت، انا اور بالادستی کے بیانیے اگر غالب آ گئے تو خطہ ایک نئے بحران میں دھکیل دیا جائے گا، لیکن اگر تدبر، برداشت اور حقیقت پسندی کو ترجیح دی گئی تو یہی لمحہ ایک نئے سیاسی توازن کی بنیاد بن سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے بھی یہ وقت سفارتی بصیرت کو مزید نکھارنے کا ہے، کیونکہ عالمی سیاست میں وہی ریاستیں مؤثر رہتی ہیں جو بحرانوں میں پل تعمیر کرتی ہیں، دیواریں نہیں۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ بحران صرف عسکری یا سفارتی نوعیت کا نہیں بلکہ نفسیاتی اور تزویراتی بھی ہے۔
خطے کی ہر بڑی قوت اپنے بیانیے، مفادات اور اسٹرٹیجک ترجیحات کے ساتھ میدان میں موجود ہے۔ اسی لیے کسی بھی معاہدے کی پائیداری صرف دستاویزی یقین دہانیوں سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے زمینی حقائق میں حقیقی تبدیلی، اعتماد سازی اور مسلسل رابطہ ناگزیر ہوگا۔ اگر مذاکراتی فریق ماضی کی تلخیوں سے بالاتر ہو کر مستقبل کی ضرورتوں کو ترجیح دیں تو یہ پیش رفت ایک نئے علاقائی توازن کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل