Sunday, June 21, 2026
 

مذہب بمقابلہ مذہب (پہلا حصہ)

 



انسانی تاریخ پر اگر گہری نظر ڈالیں تو انتہائی حیران کن بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ تاریخ کا سب سے بڑا معرکہ خود مذہب کی مختلف شکلوں کے درمیان ہوا۔ ایک طرف وہ مذہب جو انسان کو بیدار کرتا ہے اور جبر کے خلاف کھڑا کرتا ہے۔ دوسری طرف وہ مذہب جو انسان کو غلام بناتا ہے اور ایک سماجی کنٹرول کا ہتھیار بن جاتا ہے۔ ڈاکٹر علی شریعتی کی ایک مشہور کتاب مذہب مذہب کے خلاف ۔ جب ماضی کے اوراق پلٹتے ہیں تو ایک عام تاثر یہ ملتا ہے کہ معاشرے میں ایک طبقہ ہمیشہ سے مذہبی رہا ہے اور دوسرا لادین یا ملحد۔ لیکن اس کتاب کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ قدیم تاریخ میں لادینیت کا وجود تھا ہی نہیں۔ انسان فطری طور پر ہمیشہ سے مذہبی رہا ہے۔ اس نے بارش، طوفان، سورج غرض ہر چیز میں کسی نہ کسی غیبی طاقت کو محسوس کیا ہے۔ تاریخ میں جتنے بھی انسان گزرے ہیں وہ کسی نہ کسی سطح پر خداؤں اور دیوی دیوتاؤں کو مانتے تھے۔ اس کا ایک بہت اہم نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب بھی انبیاء نے آ کر معاشرے میں تبدیلی کی بات کی تو ان کا مقابلہ ان لوگوں سے نہیں تھا جو خدا کے منکر تھے بلکہ ان کا مقابلہ دراصل اس دور کے کٹر مذہبی لوگوں سے تھا اگر ایک معاشرہ پہلے سے ہی مذہبی تھا تو پھر انبیاء کو اتنی شدید اور پر تشدد مزاحمت کا کیوں سامنا کرنا پڑا۔ کہ وہ ان کی جان لینے پر تل گئے۔ اگر کوئی پیغمبر صرف عقیدے کی اصلاح کر رہا ہے تو پرانے نظام کو کیا اتنا خطرہ لاحق ہو گیا کہ وہ انبیاء کی جان لینے پر تل گئے۔ یہاں جو بات سب سے زیادہ حیرت انگیز ہے وہ یہ ہے کہ شرک محض صرف چند بتوں کو تراش کر ماتھا ٹیکنے کا نام نہیں تھا بلکہ علی شریعتی کے مطابق شرک دراصل مکمل سماجی ، معاشی ، سیاسی نظام تھا۔ ایک ایسا ادارہ جس کا مقصد طاقتور طبقے کے مفاد کا تحفظ کرنا تھا۔ اس کو سمجھنے کے لیے قدیم ادوار کی طبقاتی تقسیم کو دیکھیں۔ حکمران الگ ، تاجر الگ، کسان اور غلام الگ۔ اب ان طاقتور طبقات نے اپنے کنٹرول کو جائز قرار دینے کے لیے ہر طبقے اور ہر قبیلے کا اپنا ایک الگ خدا بنا لیا۔ یعنی بہت سے خداؤں کا تصور تھا۔ زمین پر موجود طبقاتی تقسیم کی یہ آسمانی توجیع تھی۔ اگر ایک انسان غلام پیدا ہوا ہے اور دوسرا آقا۔ تو اس فرق کو برقرار رکھنے کے لیے یہ نظریہ گھڑا گیا کہ ان دونوں کے خدا الگ ہیں۔ اور یہ اونچ نیچ انھی خداؤں کی مرضی سے ہے۔ جب مذہب اس طرح کا ادارہ بن جاتا ہے تو معاشی استحصال کو تقدس کا لبادہ پہنا دیا جاتا ہے۔ اب سوچیے کہ جب انبیاء نے آ کر توحید کا پرچار کیا تو اصل میں کیا ہوا۔ توحید کا براہ راست معاشی پہلو یہ تھا کہ اگر خالق ایک ہے تو پوری انسانیت بھی ایک ہے۔ تمام انسان برابر ہیں۔ اب اگر سب انسان برابر ہیں تو کوئی بادشاہ پیدائشی طور پر کسی غلام سے برتر نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ توحید نے زمین پر موجود فرعونوں کے اس دعوے کو چیلنج کیا کہ وہ رب ہیں۔ توحید نے مساوات کی بات کی جب کہ ان کا شرک معاشرے کی غلامی کو خدا کی مرضی قرار دے رہا تھا۔ تو جھگڑا صرف آسمان کے خداؤں کی تعداد پر نہیں تھا بلکہ زمینی وسائل کی تقسیم پر تھا۔ جب ہم تاریخی مثالوں کو دیکھتے ہیں تو یہ میکانزم بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ ؑ کی مثال لیں وہاں تین بڑے کردار نظر آتے ہیں۔ فرعون ، قارون اور بلم باعور یہ تینوںکردار اس ظالمانہ کردار کی ایک مکمل ٹرائی اینگل بناتے ہیں۔  فرعون واضح طور پر سیاسی طاقت آمریت کی علامت ہے۔ قارون معاشی استحصال کی علامت ہے جو بے پناہ سرمائے کے ذریعے عوام کی محنت کو لوٹتا ہے۔ تیسرا بلم باعور ۔ ان دونوں کو عوام کے غصے سے بچانے کے لیے اس تیسرے کردار کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ اس بدعنوان مذہبی پیشواء کی نمائندگی کرتا ہے جو مذہب کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے تاکہ وہ عوام کو خاموش کرا سکے۔ اس کا کام یہ تھا کہ فرعون کی حکومت اور قارون کی دولت یہ سب خدا کا بنایا ہوا نظام ہے۔ عوام کو یہ بھی یقین دلائے کہ ان کے خلاف بغاوت خدا کے خلاف بغاوت ہے۔ یہ تکون تاریخ کے ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں نظر آتی ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ ؑکی مثال دیکھیں تو ان کا پیغام محبت اور مساوات پر مبنی تھا لیکن ان کا سب سے بڑا ٹکراؤ فریسیوں کے ساتھ تھا۔ فریسی یعنی اس وقت کے کٹر یہودی ، مذہبی پیشواء ۔ جنہوں نے شریعت کو اتنی سخت رسومات میں قید کر دیا تھا کہ عام انسان کے لیے خدا تک پہنچنا نا ممکن تھا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل