Sunday, June 21, 2026
 

فیلڈ مارشل کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، ان کا کردار قابل تعریف ہے، اسد قیصر

 



پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیش کش کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت سنجیدگی کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتی ہے تو مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور ملک میں امن و استحکام کے لیے ان کا کردار قابل تعریف ہے۔ سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری پشاور میں تاجروں سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کے دوران رکن قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیش کش کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت سنجیدگی کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتی ہے تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم ماضی میں مذاکرات کے حوالے سے تجربات زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ چارٹر آف ڈیموکریسی کی روح کے مطابق عمل درآمد کیا جائے اور سیاسی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ اسد قیصر کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں اور پاکستان میں امن و استحکام کے لیے ان کا کردار قابل تعریف ہے، ملک میں امن کے قیام کے لیے انجام دی جانے والی خدمات کو ہمیشہ سراہا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی بزنس کمیونٹی کو درپیش مسائل اس وقت تک مکمل طور پر حل نہیں ہو سکتے جب تک افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارتی راستے فعال نہیں کیے جاتے، صوبے کی معیشت کا بڑا انحصار سرحد پار تجارت پر ہے اور بارڈر بندشوں کے باعث کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف سطح پر تجارتی اور کاروباری روابط مکمل طور پر ختم نہیں کیے گئے تو افغانستان کے ساتھ تجارت پر غیر ضروری پابندیاں عائد کرنے کا جواز سمجھ سے بالاتر ہے، معاشی سرگرمیاں محدود ہوں گی تو ترقی کا عمل بھی متاثر ہوگا اور روزگار کے مواقع کم ہوں گے۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ انہوں نے وفاقی حکومت کے سامنے بارہا یہ مسئلہ اٹھایا ہے کہ سرحد کی بندش کی وجہ سے پشاور اور سرحدی اضلاع کی معیشت مشکلات کا شکار ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ افغانستان کے ساتھ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن تجارت اور کاروبار کے لیے سرحدی راستے کھولے جائیں تاکہ تاجروں اور صنعت کاروں کو ریلیف مل سکے۔ اسد قیصر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں کو کاروباری میدان میں بھی مساوی مواقع فراہم نہیں کیے جا رہے اور انہیں لیول پلیئنگ فیلڈ سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی وفاق کی جانب سے مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کیے جا رہے ہیں، صوبائی حکومت نے چشمہ لفٹ کینال منصوبے کے لیے 9 ارب روپے مختص کیے تھے، تاہم وفاقی حکومت نے اس منصوبے کے لیے فنڈز جاری نہیں کیے، اس طرح کے رویوں سے صوبے کی ترقیاتی رفتار متاثر ہو رہی ہے۔ امن و امان کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ صوبائی حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں سب سے زیادہ وسائل پولیس کے لیے مختص کیے ہیں تاکہ دہشت گردی اور جرائم کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری رکھی جا سکیں اور عوام کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جولائی میں بارڈر بندش، تجارت، معیشت اور صوبے کو درپیش دیگر اہم مسائل پر ایک گرینڈ جرگہ منعقد کیا جائے گا، جس میں تاجروں، قبائلی عمائدین، سیاسی رہنماؤں اور دیگر متعلقہ حلقوں کو مدعو کیا جائے گا تاکہ مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے مسائل کے حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل