Loading
بیجنگ: چین نے امریکا کی جانب سے چینی کمپنیوں کے خلاف حالیہ اقدامات کا جواب دیتے ہوئے 10 امریکی فوجی کمپنیوں کو برآمدات کی فراہمی پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ اقدام دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی اور تزویراتی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
چینی وزارتِ تجارت کے مطابق ان امریکی کمپنیوں کو ایسے سامان کی فراہمی روک دی گئی ہے جو فوجی اور سول دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
وزارتِ تجارت نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ چین کی قومی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔
چینی حکام کے مطابق امریکا نے حالیہ عرصے میں چینی کمپنیوں کے خلاف غیر منصفانہ اقدامات کیے ہیں اور چینی فوجی اداروں سے وابستہ کمپنیوں کی فہرست میں مزید نام شامل کیے ہیں، جس کے جواب میں یہ کارروائی کی گئی ہے۔
چین کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے چینی کمپنیوں کو فوجی سرگرمیوں سے منسلک قرار دینا حقائق کے منافی ہے اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات متاثر ہو رہے ہیں۔
واضح رہے کہ رواں ماہ امریکی محکمہ دفاع نے چین کی چند بڑی اور معروف کمپنیوں کو اپنی نگرانی کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ ان کمپنیوں میں معروف ٹیکنالوجی اور ای کامرس کمپنی علی بابا، الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی BYD اور سرچ انجن و مصنوعی ذہانت کی کمپنی Baidu شامل ہیں۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کمپنیاں چینی فوجی نظام سے کسی نہ کسی شکل میں وابستہ ہیں تاہم مذکورہ کمپنیوں نے ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کی ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکا اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی، تجارت، دفاع اور قومی سلامتی کے معاملات پر جاری کشیدگی اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ دونوں ممالک کے جوابی اقدامات عالمی سپلائی چین، دفاعی صنعت اور بین الاقوامی تجارت پر اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے اثرات عالمی منڈیوں، ٹیکنالوجی سیکٹر اور سرمایہ کاری کے ماحول پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل