Loading
نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر کسٹمز، اے ایس ایف اور دیگر محکموں کے عملے کی مبینہ ملی بھگت سے سگریٹ اور مہنگی تمباکو نوشی اشیا کی منظم اسمگلنگ کا انکشاف ہوا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے عملے کی ملی بھگت سے سگریٹ، مہنگی تمباکو اشیا کی منظم اسمگلنگ کا نیٹ ورک بے نقاب کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
ملزم نے گزشتہ تین سال سے مختلف ایئرپورٹس کے ذریعے ممنوعہ اشیا کی اسمگلنگ میں ملوث اور منظم نیٹ ورک کا حصہ ہونے کا اعتراف کیا ہے۔
حکام کے مطابق گرفتار مسافر کی شناخت سہیل احمد کے نام سے ہوئی جس کا تعلق کراچی سے ہے اور یہ فلائٹ نمبر SV723 کے ذریعے سعودی عرب جانے کے لیے نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پہنخا جہاں امیگریشن پروفائلنگ کے دوران ملزم اپنے متواتر اور مختصر وقفوں میں بیرون ملک سفر کی وجہ بتانے میں ناکام رہا۔
ملزم کے چار چیک ان کلئیر لگیج بیگز کی تلاشی لی گئی تو بیگوں سے بڑی مقدار میں سگریٹوں کے ڈنڈے اور مختلف اقسام کی زعفرانی پتی اور تمباکو نوشی سے متعلقہ مصنوعات کی بھاری مقدار برآمد ہوئی۔
ملزم کے موبائل فون کی فرانزک سے انکشاف ہوا کہ وہ سعودی عرب میں مقیم ایک کرداد سے رابطے میں تھا جو ایئرپورٹ پر اسکیننگ اور کسٹمز کلیئرنس کے عمل کو متاثر کرنے میں ملوث پایا گیا۔
یاد رہے کہ ایئرپورٹ پر پیکج سکینگ اے ایس ایف کسٹمز کے پاس ہے جبکہ اے این ایف کاؤنٹر پر بھی چیکنگ کی جاتی ہے۔
ابتدائی پوچھ گچھ میں ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ گزشتہ تین سال سے مختلف ائرپورٹس کے ذریعے ممنوعہ اشیاء کی اسمگلنگ میں ملوث ہے اور یہ ایک منظم نیٹ ورک کا حصہ ہے جس میں مزید کئی افراد شامل ہیں ملزم کو آف لوڈ کر کے گرفتار کرتے ہوئے مزید کارروائی کے لیے ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کے حوالے کر دیا گیا۔
استغاثہ پر ملزم اور نیٹ ورک میں ملوث دیگر کرداروں کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا حکام کا مزید کہناتھاکہ کسٹمز اور ائیرپورٹ پر متحرک دیگر متعلقہ اداروں کے ملوث اہلکاروں کے کردار کا تعین تفتیش کے دوران کیا جائے گامزید تفتیش جاری ہے جس میں انکشافات کا امکان ہے۔
دوسری جانب ڈائریکٹر ایف آئی اے، اسلام آباد زون شہزاد ندیم بخاری نے متعلقہ ونگ کو تفتیش باریک بینی سے کرنے اور تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر مکمل میرٹ سے کرنے کی ہدایات کی ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل