Wednesday, June 24, 2026
 

26 نومبر احتجاج کیس؛ علیمہ خان کی وفاقی و صوبائی وزرا کی طلبی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

 



انسداد دہشت گردی عدالت میں علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر احتجاج کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے وزرا اور میڈیا شخصیات کو بطور گواہ طلب کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔ سماعت کے دوران علیمہ خان کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ، صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری اور میڈیا سے وابستہ شخصیات سمیت مجموعی طور پر 21 افراد کو بطور عدالتی گواہ طلب کرنے کی درخواست پر دلائل دیے گئے۔ یہ درخواست 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق تھانہ صادق آباد میں درج مقدمے کے تناظر میں دائر کی گئی تھی۔ استغاثہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وزرا اور میڈیا پرسنز کو بطور گواہ طلب کرنے کی درخواست تاخیری حربہ ہے۔ پراسیکیوٹر نے کہا کہ استغاثہ اپنا مقدمہ مکمل طور پر بند کر چکا ہے، اس لیے علیمہ خان کی درخواست مسترد کی جائے۔ پراسیکیوشن کے مطابق عدالت کسی کو بلاوجہ بطور کورٹ گواہ طلب نہیں کر سکتی ۔ اب علیمہ خان کا صفائی کا بیان ریکارڈ کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب وکیل صفائی فیصل ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ اپنی صفائی کے لیے ملزمان کسی بھی شخص کو بطور گواہ طلب کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیئر ٹرائل کے تقاضوں کے تحت وزرا اور میڈیا پرسنز کی طلبی ضروری ہے، کیونکہ 27 نومبر کو ملک کے کسی علاقے میں احتجاج نہیں ہوا، جس کی تصدیق میڈیا کے ذریعے ہو سکتی ہے۔ فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا جب کہ سماعت کے بعد علیمہ خان انسداد دہشت گردی عدالت سے واپس روانہ ہو گئیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل