Wednesday, June 24, 2026
 

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امریکا کی شکست کا اعلان ہے، محمد باقر قالیباف

 



باکو/تہران: ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکا اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے معاہدے کو ’امریکا کی شکست کا اعلان‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مفاہمت کسی دباؤ یا جبر کا نتیجہ نہیں بلکہ ایرانی قوم کی مزاحمت، استقامت اور طاقت کا ثمر ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق محمد باقر قالیباف نے آذربائیجان میں منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت طاقت کے زور پر نہیں بلکہ ایران کے مضبوط مؤقف اور عوامی مزاحمت کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے مشکل حالات کے باوجود اپنے قومی مفادات کا دفاع کیا اور مذاکراتی عمل میں اپنی خودمختاری اور وقار کو برقرار رکھا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ یہ معاہدہ درحقیقت امریکا کی ناکامی اور ایران کی سفارتی کامیابی کی علامت بن گیا ہے۔ قالیباف نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن اور استحکام بیرونی طاقتوں کے ذریعے نہیں بلکہ خطے کے ممالک کے باہمی تعاون اور مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ علاقائی سلامتی کی ذمہ داری خود خطے کے ممالک کو سنبھالنی چاہیے۔ ایرانی مذاکرات کار کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مذاکرات اور مفاہمتی اقدامات پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ مختلف حلقے اس معاہدے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں، جبکہ ایران اسے اپنی مزاحمتی پالیسی کی کامیابی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ تہران معاہدے کو سفارتی کامیابی کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہے، جبکہ مستقبل میں اس معاہدے کے عملی نتائج پر عالمی برادری کی گہری نظر برقرار رہے گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل