Loading
اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس ادارے شِن بیٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ہفتے غزہ میں کیے گئے ایک فضائی حملے میں حماس کی رفح بریگیڈ کے عسکری سیکیورٹی شعبے کے سربراہ اسماعیل مصری کو نشانہ بنایا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترجمان اسرائیلی فوج نے بتایا کہ یہ کارروائی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر گزشتہ منگل کو خفیہ ادارے شن بیٹ کے ساتھ مشترکہ طور پر کی گئی۔
ترجمان اسرائیلی نے بتایا کہ اسماعیل مصری کی لاش کی باقیات کے ایک حصے کو اسرائیل لایا گیا اور فرانزک لیب میں تصدیق کے بعد یہ ثابت ہو گیا کہ حملے میں نشانہ بننے والے اسماعیل مصری ہی تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسماعیل مصری حماس کی رفح بریگیڈ کے ایک سینئر رہنما تھے اور وہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنے اور اس کی نقل و حرکت کو متاثر کرنے کی سرگرمیوں کے ذمہ دار تھے۔
ترجمان اسرائیلی فوج کے بقول جنگ کے دوران اسماعیل مصری رفح بریگیڈ میں سیکیورٹی اور انسدادِ جاسوسی کے امور کی نگرانی کر رہے تھے اور حماس کے عسکری سیکیورٹی ڈھانچے کی ازسرِ نو بحالی اور مضبوطی کے لیے بھی سرگرم تھے۔
انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ حماس کے کمانڈر اسماعیل مصری اسرائیلی فوجی اہلکاروں کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی اور مختلف کارروائیوں میں بھی ملوث تھے۔
حماس کی جانب سے اسرائیلی دعوے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اسماعیل مصری کی ہلاکت کی آزاد ذرائع سے تصدیق ہو سکی ہے۔
واضح رہے کہ غزہ میں جنگ بندی اور پیس بورڈ کی تشکیل کے باوجود تاحال اسرائیلی فوج کی جارحیت جاری ہے جس میں روزانہ کی بنیاد پر معصوم فلسطینی بھی شہید ہورہے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل