Tuesday, June 30, 2026
 

انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت کا کیس:5 ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں 2 دن کی توسیع

 



ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت کے کیس کی سماعت کے دوران ایف آئی اے کی جانب سے گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ احمد شہزاد گوندل کی عدالت نے پانچ ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں دو دن کی توسیع کر دی، جبکہ ایف آئی اے نے ملزمان کے مزید نو روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ پاکستانی شہری ملزمان کی جانب سے وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کا اس پورے معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں، ایف آئی اے نے انہیں غلط طور پر نامزد کیا ہے، جبکہ ان کا وکالت نامہ صرف پاکستان سے تعلق رکھنے والے دو ملزمان کی حد تک ہے۔ گرفتار ملزمان میں تین غیر ملکی اور دو پاکستانی شہری شامل ہیں۔ ایف آئی اے اور ہوٹا ٹیم نے گزشتہ دنوں اسلام آباد کے سیکٹر ایف-7 میں کارروائی کرتے ہوئے چینی باشندوں سمیت پانچ افراد کو انسانی اعضا کے کیس میں گرفتار کیا تھا۔ چھاپے کے دوران بڑی مقدار میں انسانی پلاسنٹا برآمد ہوا، جبکہ تازہ، خشک اور پراسیس شدہ پلاسنٹا کا ذخیرہ بھی قبضے میں لے لیا گیا تھا۔ تفتیش کے مطابق ملزمان اسپتالوں سے انسانی پلاسنٹا حاصل کرنے میں مبینہ طور پر ملوث ہیں، اور یہ پلاسنٹا پشاور، راولپنڈی اور لاہور کے اسپتالوں سے جمع کیا جاتا تھا۔ مزید یہ کہ پراسیس شدہ پلاسنٹا کو غلط ظاہر کرکے بیرون ملک بھیجا جاتا تھا، جبکہ ملزمان پلاسنٹا کو بھیڑ کے اعضا ظاہر کرکے برآمد کرتے تھے۔ عدالت نے جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر ملزمان کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل