Loading
تھائی لینڈ کی ایک عدالت نے 12 سالہ بیٹی کو جاپان لے جا کر زبردستی جنسی جرائم کے لیے ٹوکیو کے مساج پارلر کو فروخت کرنے والی ماں 7 سال 6 ماہ قید کی سزا سنا دی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق خاتون کی شناخت صرف لکسانا کے نام سے ظاہر کی گئی جس نے انسانی اسمگلنگ اور کم عمر بچی کو جسم فروشی پر مجبور کرنے کے الزامات کا اعتراف کرلیا۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ملزمہ اپنی بیٹی کو سیر اور تفریح کا بہانہ بنا کر جاپان لے گئی لیکن وہاں پہنچنے کے بعد اسے تنہا چھوڑ دیا اور اسے ٹوکیو کے ایک مساج پارلر میں جنسی استحصال پر مجبور کیا گیا۔
تھائی اور جاپانی حکام کے مطابق یہ جرم جون اور جولائی 2025 کے دوران پیش آیا۔ متاثرہ بچی نے کسی طرح جاپان کی امیگریشن حکام سے رابطہ کرکے مدد طلب کی۔ جنھوں نے بچی کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا۔
بعد ازاں تھائی لینڈ اور جاپان کی حکومتوں نے مشترکہ تحقیقات شروع کیں جس کی بنیاد پر ملزمہ کو ستمبر 2025 میں تائیوان کے سفر کے دوران گرفتار کیا گیا اور دسمبر میں تھائی لینڈ لاکر جنسی جرائم کے لیے انسانی اسمگلنگ کا مقدمہ چلایا گیا۔
جاپانی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں خاتون نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنی بیٹی کو جاپان اپنے شیر خوار بچے کی دیکھ بھال کے لیے لائی تھی تاہم تحقیقات میں سامنے آنے والے شواہد نے اس دعوے کی تردید کی۔
خاتون نے تاحال سزا کے خلاف اپیل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل