Wednesday, July 01, 2026
 

وفاق نے 175 ارب روپے کی جگہ صرف 91 ارب روپے جاری کیے، وزیراعلیٰ سندھ

 



وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ نظرثانی شدہ بجٹ تخمینوں کے تحت سندھ کو جون کے اختتام تک وفاقی حکومت سے 175 ارب روپے موصول ہونا تھے تاہم صرف 91 ارب روپے جاری کیے گئے جس کے باعث صوبے کو 85 ارب روپے کی کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے یہ بات این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں سندھ کے پہلے گوگل جیمنائی فار ایجوکیشن کارنر کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ مالی امور سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ نظرثانی شدہ بجٹ تخمینوں کے مطابق سندھ کو جون کے اختتام تک وفاقی حکومت سے 175 ارب روپے ملنے تھے، لیکن صرف 91 ارب روپے جاری کیے گئے، جس کے نتیجے میں تقریباً 85 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز کی کم منتقلی سے صوبائی مالی وسائل اور ترقیاتی منصوبوں پر اضافی دباؤ پڑا ہے۔بلدیاتی اصلاحات کے حوالے سے مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ میں ہمیشہ بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے کام کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جن صوبوں میں بلدیاتی نظام موجود نہیں وہاں سے ہونے والی تنقید بے بنیاد ہے۔ مراد علی شاہ نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر سکیورٹی اقدامات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت ٹیکنالوجی کے فروغ اور ڈیجیٹل جدت کے لیے پرعزم ہے۔ شہری ترقی کے لیے وفاقی رابطہ ادارہ قائم کرنے کی تجاویز سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ کو کسی بھی رابطہ کار وفاقی ادارے کے قیام پر کوئی اعتراض نہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ آئین کے تحت منتقل کیے گئے محکموں پر انتظامی اختیارات صوبوں کے پاس ہیں اور وہ انہی کے پاس رہنے چاہییں۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل