Loading
کینیا کی عدالت نے ایک اسکول کی 8 طالبات پر اپنی ساتھی طالبات کے قتل کے الزام میں فرد جرم عائد کر دی۔
غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عدالت میں پراسیکیوٹر نے اسکول کی 8 طالبات پر الزام عائد کیا گیا کہ مئی کے آخر میں کینیا کے رفٹ ویلی میں واقع ایک اسکول کے ہاسٹل میں آتشزدگی کے نتیجے میں 16 طالبات ہلاک ہوئی ہیں اور اس آتشزدگی کی ذمہ دار مذکورہ طالبات ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ کینیا میں گلگل ناکورو کاؤنٹی میں واقع اوتومیشی گرلز اکیڈمی سینئر اسکول کے ہاسٹل میں آگ لگی تھی اور مزید79 طالبات زخمی ہوئی تھی، اسکول میں زیرتعلیم طالبات کی عمریں 15 سے 18 سال کے درمیان ہیں۔
استغاثہ کے مطابق ملزم تمام لڑکیوں کو نیروبی کی کیبیرا ہائی کورٹ کی جج ڈیانا کاویڈزا کے روبرو پیش کیا گیا جہاں انہوں نے قتل کے الزام سے مسترد کرتے ہوئے خود کو بے گناہ قرار دیا۔
سرکاری پراسیکیوٹر کی جانب سے مقدمے کے حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
کینیا کے وزیر تعلیم جولیس اوگامبا نے مئی میں اسکول میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد بیان میں کہا تھا کہ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں بدامنی کے باعث کم از کم 204 سینئر اسکولوں کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا، تاہم اوتومیشی گرلز اکیڈمی سینئر اسکول سمیت بیشتر تعلیمی اداروں میں اب دوبارہ تدریسی سرگرمیاں بحال ہو چکی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کینیا کے اسکولوں میں آگ لگنے کے واقعات عام ہیں، جن میں کئی واقعات ایسے ہیں جن میں طلبہ سخت نظم و ضبط اور ناقص سہولتوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے خود کو آگ لگاتے ہیں۔
کینیا میں اس سے قبل بھی اسکولوں میں بدترین آتشزدگی کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں،2024 میں نیئری کاؤنٹی کے ہل سائیڈ اینڈاراشا اکیڈمی میں لگنے والی آگ میں21 بچے ہلاک ہوئے تھے۔
اسی طرح 2001 میں نیروبی کے نواح میں واقع کیانگولی سیکنڈری اسکول میں آگ لگنے سے 67 طلبہ جان کی بازی ہار گئے تھے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل