Wednesday, July 01, 2026
 

بلدیاتی نظام

 



پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) کو چیلنج کیا ہے کہ وہ اگر جمہوریت پسند اور عوام کی مقبولیت پر یقین رکھتی ہے تو فوری طور پر اسلام آباد اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کرا کر دکھائے اور عوام کو ان کا حق دیں ۔ پی پی چیئرمین نے مسلم لیگ (ن) اور وفاقی و پنجاب حکومتوں پر جو تنقید کی ہے اور چیلنج دیا ہے وہ حقیقت پر مبنی ہے، بلاشبہ پنجاب و اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن وقت کی ضرورت ہے لیکن یہ بھیحقیقت ہے کہ مسلم لیگ (ن) ہو، پیپلز پارٹی ہو یا پی ٹی آئی، یہ سب بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں نہیں ہیں اور ارکان اسمبلی کو بااختیار بلدیاتی نظام پر ترجیح دیتی آئی ہیں اور بلدیاتی نمایندوں کو نظرانداز کرکے ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈ کے نام پر نوازنے پر یقین رکھتی ہیں۔  پیپلز پارٹی سندھ جس بلدیاتی نظام پر فخر کر رہی ہے، وہ پیپلز پارٹی کا دیا ہوا نہیں بلکہ 1979 میں جنرل ضیا الحق کا کمزور اور بے اختیار بلدیاتی نظام ہے۔ 1979 کا بلدیاتی نظام سندھ کے موجودہ بلدیاتی نظام سے کہیں بہتر اور بااختیار تھا، پیپلز پارٹی نے بھی 1979 اور 1987 کے بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لیا تھا جب کہ 1983 کے بلدیاتی الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے بلدیاتی چیئرمینوں نے سندھ میں فوجی گورنر جنرل عباسی اور جنرل ضیا الحق کے سندھ کے دورے میں ان کے پروگراموں کا بائیکاٹ کیا تھا مگر فوجی حکومت میں بائیکاٹ کرنے والوں کو کچھ نہیں کہا گیا تھا۔ سندھ میںجو کمزور بلدیاتی نظام چل رہا ہے ، اس میں بلدیاتی عہدیداروں کی اتنی جرأت نہیں کہ وہ بلدیات کے وزیر تو کیا ڈپٹی کمشنر کے طلب کردہ اجلاس کا بھی بائیکاٹ کر سکیں۔ سندھ میں وزیر بلدیات بہت اہمیت رکھتا ہے جس کے اندرون سندھ کے دورے میں خیر مقدمی بینرز لگتے ہیں اور ان کا شان دار استقبال کرکے خوشامد کی جاتی ہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کا میئر سندھ حکومت نے جس طرح منتخب کرایا تھا اس کا سب کو پتا ہے۔ جمہوریت اور عوام کی آزادی کی دعویدار پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت نے بھی اپنے صوبے میں بے اختیار اور کمزور بلدیاتی نظام دے رکھا ہے۔ کے پی کے منتخب نمایندے فنڈز اور اختیارات نہ ملنے پر مسلسل احتجاج کرتے آ رہے ہیں۔کے پی میں پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے بلدیاتی عہدیداروں کے آئینی اختیارات پی ٹی آئی حکومت نے سلب کر رکھے ہیں اور انھیں قانونی فنڈز بھی نہیں دیے جا رہے جہاں ان کی مدت بھی پوری ہونے جا رہی ہے مگر اختیارات نہیں مل رہے۔ 2018 میں پنجاب میں بلدیاتی اداروں کی سربراہی واضح طور پر (ن) لیگ کے پاس تھی۔ پنجاب میں اقتدار میں آتے ہی پی ٹی آئی حکومت نے بلدیاتی اداروں کے فنڈز روکے، اختیارات سلب کیے اور بعد میں بلدیاتی ادارے ہی توڑ دیے تھے جس کے خلاف بلدیاتی عہدیدار لاہور ہائی کورٹ گئے جہاں شنوائی نہ ہونے پر سپریم کورٹ گئے جس نے ادارے بحال کیے مگر حکومت نے عمل نہیں ہونے دیا تھا اور آخری ہفتوں میں عمل کیا تو مدت پوری ہو گئی تھی۔بلدیاتی نظام بلوچستان میں برائے نام ہے جہاں بلدیاتی عہدیداروں کی نہیں چلتی ، سرداروں کے فیصلے چلتے ہیں۔ 2018 سے قبل (ن) لیگ نے اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن کرائے تھے جس میں (ن) لیگی میئر منتخب ہوا تھا۔ پی ٹی آئی حکومت نے آتے ہی (ن) لیگی میئر کو برطرف کیا جسے ہائیکورٹ نے بحال کیا تھا جس پر دوبارہ میئر کو برطرف کیا تھا، یہ افسوس ناک ریکارڈ پنجاب اور وفاق کی پی ٹی آئی حکومت نے قائم کیے تھے اور اب (ن) لیگ کی حکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات مختلف طریقوں سے ملتوی کرتی آ رہی ہے ۔ 2022 میں پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت ختم ہوئی تھی جس کے بعد تقریباً سوا تین سال (ن) لیگی حکومت رہی اور اب تقریباً ڈھائی سال سے مریم نواز وزیر اعلیٰ ہیں ، پنجاب میں بلدیاتی سسٹم پنجاب اسمبلی نے منظور تو کر رکھا ہے مگر بلدیاتی الیکشن نہیں کرائے جارہے۔اب مسلم لیگ (ن) کو بلاول بھٹو کا چیلنج قبول کرنا چاہیے مگر نہیں کرے گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل