Wednesday, July 01, 2026
 

سسکتی انسانیت کا ریاست سے سوال

 



کراچی سے اپنے خاندان کے ہمراہ کوئٹہ کی پرفضا وادیوں، اللہ رب العزت کی بنائی ہوئی خوبصورت جھیلوں اور پہاڑوں کی سیر کو نکلنے والا پرامن نوجوان علی جمیل مستونگ کے قریب سفاکیت کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ایک ایسا نوجوان جو اپنے ملک سے محبت کا سفیر بن کر گھر سے نکلا تھا، اسے کیا معلوم تھا کہ اس کے اپنے ہی ہم وطن کہلانے والے چند درندے اس کی زندگی کا چراغ گل کر دیں گے۔ آج اس کی شریکِ حیات زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا اسپتال میں زیر علاج ہے اور دو معصوم کلیاںجو کل تک اپنے بابا کی گود میں چہچہاتی تھیں، اس خوفناک منظر کے سائے میں سہم کر سکتے میں ہیں۔ سول اسپتال کوئٹہ کے سرد، بے مہر اور تاریک برآمدے میں اپنے شریک حیات کے خون سے رنگین کپڑوں میں ملبوس کھڑی خاتون مجسم زندہ لاش اس ملک کے امن، قانون اور دم توڑتی انسانیت کا وہ زندہ نوحہ ہے جس کے سامنے لفظ بھی سر جھکائے ماتم کررہے ہیں۔ اس کے کپڑے شوہر کے معصوم اور ناحق خون سے رنگین، سکتے کی حالت میں صرف اللہ کے آسرے پر بیٹھی ہے۔ اسلام نے تو ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا تھا مگر افسوس کہ آج کلمہ طیبہ کے نام پر بنے پاکستان جسے دنیا اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی کہتی ہے کی دھرتی پر خون مسلم کی ارزانی ناقابل فہم و ناقابل یقین ہے، عام عوام کا خون پانی سے زیادہ سستا کر دیا گیا ہے۔ اس مجبور، بے سہارا بیوہ کی گود میں بلکتی دو معصوم بچیاں ہیں اور آنکھوں میں وہ سکتہ اور پتھرایا ہوا پن ہے جس کی گہرائی میں اترا جائے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اس کے دل و دماغ میں بس ایک ہی سوال مسلسل ہتھوڑے برسا رہا ہے کہ ’’آخر ہمارا قصور کیا تھا؟‘‘ کونسا جرم ہم سے سرزد ہو ا؟ کیا اپنے ہی ملک میں، اپنے ہی پرچم تلے، خدا کی زمین پر چند پرسکون لمحے گزارنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کی سزا موت مقرر کر دی جائے؟ پولیس اور کراچی کے تجارتی تنظیموں کے مطابق کراچی میں حلال رزق کمانے اور موبائل فون کا کاروبار کرنے والے علی جمیل کوئٹہ کے مختلف مقامات پر سیر و تفریح کے بعد جمعہ کی شب اپنے آبائی شہر واپس جارہے تھے کہ رات کے اندھیرے میں راستہ بھول جانے کے باعث قومی شاہراہ سے ہٹ کر دشت کے علاقے کھنڈ پہنچ گئے۔ کراچی موبائل اینڈ الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر منہاج گلفام کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان مبینہ طور پر گوگل میپ کی غلط رہنمائی کے باعث اس حساس اور خطرناک علاقے میں داخل ہوا۔ وہاں گھات لگائے بیٹھے، انسانیت کے چہرے پر کلنک، مٹھی بھر مسلح دہشت گردوں نے گاڑی روکنے کا اشارہ کیا۔ رات کے اس مہیب سناٹے میں جہاں صرف خوف کا راج تھا، اندیشوں کے باعث جب گاڑی نہ رکی تو ان سفاک قاتلوں نے، جن کے سینوں میں دل نہیں بلکہ نفرت کے پتھر ہیں، گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس بربریت کے نتیجے میں خاندان کا محافظ اور سربراہ علی مرتضیٰ جمیل موقع پر ہی دم توڑ گیا جب کہ ان کی زوجہ عائشہ شدید زخمی ہوگئیں جنھیں فوری طور پر صوبائی سنڈیمن اسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا۔ اس پوری قیامت خیز گھڑی میں جب گولیاں لوہے کو چیر رہی تھیں، گاڑی میں سوار دونوں کمسن بچیاں معجزانہ طور پر محفوظ تو رہیں لیکن انھوں نے اپنی معصوم آنکھوں سے اپنے باپ کو تڑپتے اور دم توڑتے اور ماں کو چیختے دیکھا۔ ان کے معصوم ذہنوں پر جو گہرا، خونی زخم لگا ہے، اس ٹراما اور ٹریجڈی کا ازالہ کائنات کی کوئی دوا، کوئی مرہم یا مسیحا کبھی نہیں کر پائے گا۔ یہ المیہ صرف ایک خاندان کی تباہی یا ایک سہاگ کے اجڑنے کا واقعہ نہیں بلکہ یہ اس ریاستی بیانیے کی مکمل شکست ہے جس کے مطابق ’’سب اچھا ہے‘‘۔ سچائی بہت کڑوی ہے لیکن اب منافقت کے پردے چاک کر کے اسے تسلیم کرنا ہوگا کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، اندرونِ سندھ اور کچے کے علاقے آج عام نہتے اور پرامن شہریوں کے لیے عملاً نوگو ایریا بن چکے ہیں اور ریاست کی رٹ وہاں مکمل ختم ہو چکی ہے۔ قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا، جہاں ہر شہری آزادانہ اور بلاخوف و خطر سفر کر سکے، آج اسی ملک میں اگر آپ کا کوئی بااعتماد رشتہ دار یا دوست کسی علاقے میں موجود نہ ہو تو وہاں کا رخ کرنا موت کے کنویں میں چھلانگ لگانے کے مترادف بن چکا ہے۔ ایک ایسا ملک جو کلمہ طیبہ کے نام پر بنا جہاں مسافر کی حفاظت اور مہمان نوازی ایمان کا حصہ سمجھی جاتی تھی، وہاں سیاحوں کو چن چن کر نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان درندوں کا نہ تو کوئی دین ہے، نہ کوئی ایمان اور نہ ہی کوئی قوم و قبیلہ۔ ان کا قبیلہ اور ذات صرف وحشت اور ان کا دین صرف خون ریزی ہے۔ اس بربریت اور سفاکیت کے پیچھے کارفرما غلیظ ہاتھ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ یہ کوئی مقامی ناراضگی یا محرومی کا شاخسانہ نہیں بلکہ یہ سراسر’’فتنہ الہندوستان‘‘ کا رچایا ہوا وہ خونی کھیل ہے جس کا مقصد پاکستان کو اندرونی طور پر کھوکھلا، کمزور اور غیرمستحکم کرنا ہے۔ نئی دہلی میں بیٹھے چانکیہ کے مکار پیروکار اور قہار و جبار اللہ کے قہر کے منتظر ان کے تنخواہ دار مقامی آلہ کار، جو چند ٹکوں اور بیرونی فنڈنگ کے عوض اپنے ہی ملک کے معصوم شہریوں کا خون بہاتے ہیں، اس پوری سازش کے ماسٹر مائنڈ ہیں۔ ان کے ساتھ ہمارے اپنے شہروں، قصبوں اور وادیوں میں چھپے منتقم اللہ کے انتقام کے منتظر ضمیر فروش سہولت کار بھی برابر کے شریک ہیں جو ان درندوں کو لاجسٹک، مخبری اور پناہ فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان کی ترقی، امن اور بلوچستان کی خوشحالی کے دشمنوں کو یہ ہضم نہیں ہو رہا کہ پاکستان کے عوام ایک دوسرے کے قریب آئیں اور ملک میں سیاحت فروغ پائے، اسی لیے وہ کبھی غریب پنجابی مزدوروں کو بسوں سے اتار کر شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کرتے ہیں تو کبھی کراچی سے آنے والے معصوم اور بے ضرر سیاحوں کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ نفرت کی خلیج کو گہرا کیا جا سکے۔ اس وحشیانہ قتل کے بعد مقتول تاجر علی مرتضیٰ جمیل کی نمازِ جنازہ کراچی میں ادا کر دی گئی ہے، جہاں پور ی تاجر برادری صدمے اور مقتول کے لواحقین شدید غم و غصے کی لہر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ کراچی موبائل اینڈ الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن نے مقتول تاجر کے بہیمانہ قتل پر شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور انھیں عبرت کا نشان بنانے کا سخت مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب روایتی طور پر سیاسی و انتظامی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر وزیرداخلہ بلوچستان ضیاء لانگو نے بھی اس افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے اور ذمے داروں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان نوٹسز سے علی جمیل واپس آ جائے گا؟ کیا ان بیانات سے ان بچیوں کا بابا لوٹ آئے گا؟ اب محض نوٹسز، مذمتی بیانات، تعزیتی ٹویٹس اور روایتی فائلوں کے تبادلوں کا وقت ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ جو عناصر ریاست کے معصوم شہریوں، کلمہ گو مسلمانوں اور مہمانوں کو گولیوں کا نشانہ بناتے ہیں، وہ اللہ کی زمین پر فساد فی الارض کے مرتکب ہیں اور وہ کسی بھی قسم کی رعایت، ہمدردی یا نرمی کے مسحق نہیں ہوسکتے۔ مقتول شوہر کا خون سوکھنے سے پہلے، اس زخمی اور مظلوم بیوہ کی آنکھوں کے آنسو اور بچوں کی سسکیاں اس ملک کے مقتدر حلقوں، سکیورٹی اداروں، پاک فوج اور عدلیہ سے فوری، بے رحم اور حتمی انصاف مانگ رہی ہیں۔ جب تک ان دہشت گردوں، ان کے غیر ملکی ہینڈلرز اور اندرونی سہولت کاروں کی جڑیں کاٹ کر انھیں سرِعام عبرت کا نشان نہیں بنایا جاتا تب تک فتنہ الہندوستان اور کچے کے ڈاکو اسی طرح معصوموں کے خون سے ہولی کھیلتے رہیں گے اور شہریوں کا امن غارت کرتے رہیں گے۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ فتنہ الہندوستان کے ان پالتو غداروں، ملک دشمن عناصر اور انسانیت کے قاتلوں کے خلاف ایک آخری، فیصلہ کن اور حتمی گرینڈ آپریشن کا آغاز کیا جائے جو منتقم اللہ کا انتقام بن کر ان ظالموں کا نام و نشان مٹا دے تاکہ آیندہ کسی بیوہ کو اپنے بچوں کے سامنے خون آلود کپڑوں میں کھڑے ہو کر یہ دردناک سوال نہ پوچھنا پڑے کہ ’’ہمارا قصور کیا تھا؟‘‘ اور اس پاک سرزمین پر پھر کبھی کوئی محبِ وطن سیاح اپنی ہی دھرتی پر اجنبی بن کر موت کے گھاٹ نہ اتارا جائے۔ ریاست کے ذمہ داران ہوش کے ناخن لیں کیونکہ ان کے پاس مزید وقت ضایع کرنے کے لیے نہیں، اب مضبوط، محفوظ اور پرامن پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا چاہیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل