Loading
سیاسی تحریکوں کے نتیجے میں عوام کو حقوق ملتے ہیں۔ ہندوستان کے عوام نے 21ویں صدی کی پہلی تین دہائیوں میں تاریخی سیاسی تحریکیں چلائیں۔ ان میں خلافت تحریک اور ہندوستان چھوڑ دو تحریکیں انتہائی اہم تھیں۔ ان تحریکوں میں لاکھوں افراد جیلوں میں گئے، ہزاروں افراد نے برطانوی حکومت سے ملنے والے اعزازات واپس کردیئے اور سرکاری ملازمتیں چھوڑ دیں۔
امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں جنرل ڈائر نے ہندوستانی عوام کا قتل عام کیا۔ نیوی کی بغاوت میں برطانوی فوج کی فائرنگ سے سیکڑوں سپاہی جاں بحق ہوئے اور بہت سے فوجیوں کو کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا۔ برطانوی ہند کی حکومت نے ان تحریکوں کے رہنماؤں پر غداری، روسی ایجنٹ اور کمیونسٹ ہونے کے الزامات لگائے۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر ان تحریکوں کے ہی اثرات تھے کہ برطانیہ نے ہندوستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ برصغیر کا بٹوارہ ہوا اور دنیا کے نقشے پر دو ملک وجود میں آئے۔ پاکستان بننے کے بعد بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے نئی تحریکیں چلائی گئیں۔
مشرقی بنگال کے عوام نے بنگالی زبان کو سرکاری زبان قرارے دینے کی تحریک شروع کی تو کراچی کی حکومت نے اس تحریک کو کچلنے کا فیصلہ کیا۔ حکومت نے سرکاری اخبارات کے ذریعے بنگالی زبان کے لیے تحریک چلانے والوں کو غدار اور بھارت کا ایجنٹ قرار دیا۔ سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو پابند سلاسل کیا گیا۔ ڈھاکہ میں 21 فروری 1952 کو بنگالی زبان کے مطالبہ کو منوانے کے لیے نکالے جانے والے جلوس پر پولیس نے اندھا دھند گولیاں چلائیں، اس فائرنگ سے بہت سے طالب علم جاں بحق ہوئے۔ ڈھاکہ کی حکومت نے اس صورتحال کی ذمے داری بھارتی ایجنٹوں اور علیحدگی پسند عناصر پر عائد کی مگر پھر حکومت کو اس مطالبہ کو تسلیم کرنا پڑا اور اردو کے ساتھ بنگالی زبان کو بھی قومی زبان کا درجہ دینا پڑا۔
اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسکو نے 1999میں 21 فروری کو مادری زبان کا عالمی دن قرار دیا۔اب 21 فروری کو پاکستان سمیت دنیابھر میں مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم سیاسی تحریک ون یونٹ کے خاتمہ کی تحریک ہے۔
کراچی کی حکومت نے 1955 میں سندھ، پنجاب، سابقہ صوبہ سرحد اور بلوچستان کی حیثیت ختم کرکے ون یونٹ قائم کیا اور 1955 کے آئین میں Parity کا اصول نافذ کرکے مشرقی پاکستان کی اکثریت کو ختم کردیا گیا۔ سندھ، بلوچستان اور سرحد کے سیاسی رہنماؤں نے ون یونٹ کو قبول نہیں کیا۔ سرحد میں خان عبدالغفار خان، ولی خان، بلوچستان سے عبدالصمد اچکزئی، میر غوث بخش بزنجو اور سردار عطاء اﷲ مینگل، سندھ سے جی ایم سید، قاضی فیض محمد ،حیدر بخش جتوئی اور کمیونسٹ رہنما جام ساقی نے ون یونٹ کے خاتمے کی تحریک مسلسل چلائی۔ پنجاب سے میاں افتخار الدین اور حبیب جالب وغیرہ اس تحریک میں شامل ہوئے۔ مرکزی حکومت نے ون یونٹ کی مخالفت کرنے والوں کو ملک دشمن اور بھارت اور روس کا ایجنٹ وغیرہ قرار دیا۔
ان رہنماؤں کو طویل عرصہ قیدوبند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایوب خان کے خلاف جب 1968 میں تحریک چلائی گئی تو اس میں ون یونٹ کے خاتمے کا مطالبہ شامل تھا۔ جنرل یحییٰ خان نے یکم جولائی 1970کو ون یونٹ ختم کرنے اور چاروں صوبوں کی بحالی کی فیصلہ کیا۔ ایوب خان نے 1958میں مارشل لاء نافذ کر کے اقتدار پر قبضہ کیا اور 1955کا آئین منسوخ کرکے 1962 میں ایک نیا آئین نافذ کیا۔ اس آئین میں تمام اختیارات صدر کے گرد گھومتے تھے۔ بی ڈی نظام نافذ کیا گیا۔ اس نظام کے تحت پورے ملک سے 80ہزار بی ڈی ممبرز،40 ہزار مغربی پاکستان سے اور 40 ہزار مشرقی پاکستان سے منتخب ہوئے۔
جب محترمہ فاطمہ جناح نے ایوب خان کے خلاف صدارتی انتخاب لڑا تو ایوب خان اور اس کے ساتھیوں نے فاطمہ جناح اور ان کے ساتھیوں ممتاز دولتانہ، نصر اﷲ خان، ولی خان ، شیخ مجیب الرحمن اور میر غوث بخش بزنجو وغیرہ کو بھارت کا ایجنٹ اور ملک دشمن قرار دیا۔ حکومت نے فاطمہ جناح کی کردار کشی کے لیے جہازی سائز کے اشتہارات شائع کیے۔ انتخابات میں دھاندلی سے محترمہ فاطمہ جناح کو ہرایا گیا مگر پھر 1968میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیم این ایس ایف کے کارکنوں نے تحریک شروع کی جو پورے ملک میں پھیل گئی اور 1969میں ایوب خان نے اپنا آئین خود منسوخ کیا اور اقتدارجنرل یحییٰ خان کو منتقل کردیا۔
جنرل یحییٰ خان نے تاریخ میں پہلی دفعہ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات کرائے۔ ان انتخابات میں مشرقی پاکستان سے عوامی لیگ، سندھ اور پنجاب سے پیپلز پارٹی جب کہ سرحد و بلوچستان سے نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کامیاب ہوئیں۔ جنرل یحییٰ خان نے اقتدار عوامی لیگ کو منتقل نہیں کیا۔ اس صورتحال کا منطقی نتیجہ 16 دسمبر 1971ء کو سامنے آیا۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ جب سابق صدر پرویز مشرف بنگلہ دیش کے دورہ پر گئے تو انھوں نے 1971 میں مارے جانے والے نامعلوم سپاہی کی یادگار پر سلامی دی تھی۔
جب جنرل ضیاء الحق نے اقتدار سنبھالا تو 90 دن میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ ملک کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو متنازع عدالتی فیصلہ کے تحت پھانسی دیدی گئی۔ جنرل ضیاء الحق نے 1973 کے آئین کو معطل کیا اور انتخابات کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا، اخبارات پر سنسرلگادیا گیا۔ جب 1980میں پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن نصرت بھٹو اور ان کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو جیل سے رہا ہوکر آئیں تو انھوں نے کالعدم جماعتوں کے رہنماؤں کو 1973 کے آئین کی بحالی اور فوری طور پر عام انتخابات منعقد کرانے کے پروگرام کے تحت ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی دعوت دی۔ نصرت بھٹو کی اس کوشش کے مثبت نتائج برآمد ہوئے، یوں تحریک بحالی جمہویت (M.R.D) قائم ہوئی۔ ایم آر ڈی میں پیپلز پارٹی، پاکستان جمہوری پارٹی، نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی، عوامی تحریک، قومی محاذ آزادی، مزدور کسان پارٹی، تحریک استقلال، نیشنل پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ خواجہ خیر الدین گروپ نے شمولیت اختیار کی۔
ایم آر ڈی نے 1973 کے آئین کی بحالی ، آزادانہ شفاف انتخابات کرانے اور تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی و دیگر مطالبات پر مشتمل منشور جاری کیا۔ حکومت نے ایم آر ڈی کے رہنماؤں پر حسب روایت غداری، بھارتی ایجنٹ ہونے اور علیحدگی پسندی کے الزامات لگائے۔ ایم آر ڈی نے 14 اگست 1983 کو سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ اس دن کراچی، لاہور اور دیگر شہروں میں زبردست احتجاجی جلسے ہوئے۔ حکومت نے ایم آر ڈی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کرنا شروع کیا۔ ایم آر ڈی میں شامل سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کو ٹارچر کیمپ میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بہت سے کارکنوں کو لاہور کے شاہی قلعہ میں تھرڈ ڈگری تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
پورے ملک سے ہزاروں سیاسی کارکن گرفتار ہوئے۔ سیکڑوں کارکنوں کو کوڑے مارنے اور قید کی سزائیں سنائیں۔ ایم آر ڈی کی تحریک میں سب سے زیادہ جوش و خروش اندرون سندھ میں پایا گیا۔ ہر شہر و گاؤں کے کارکنوں، وکلاء، دانشوروں اور صحافیوں نے گرفتاریاں دیں۔ کئی مقامات پر قومی شاہراہ پر ہزاروں لوگوں نے دھرنے دیئے۔ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے اہلکاروں کی فائرنگ سے درجنوں افراد شہید ہوئے، یہ تحریک تقریباً 6ماہ سے زیادہ عرصہ تک جاری رہی۔ اس تحریک کا پوری دنیا میں خوب چرچا ہوا۔ عالمی رائے عامہ نے پاکستان کی حکومت پردباؤ ڈالنا شروع کیا۔
جنرل ضیاء الحق نے اپنے اقتدار کو قانونی جواز دینے کے لیے ایک ریفرنڈم کرایا۔ عوام کی اکثریت نے اس ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا۔ حکومت نے غیر جماعتی بنیادوں پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کرائے۔ جنرل ضیاء الحق نے محمد خان جونیجو کوو زیر اعظم بنایا مگر جنرل ضیاء الحق نے جونیجو حکومت کو برطرف کردیا، یوں جنرل ضیاء الحق کا زوال شروع ہوا۔ وہ ایک فوجی جہاز کے حادثے میں ہلاک ہوئے اور ملک میں 1973 کا آئین بحال ہوا۔ تاریخ میں پہلی دفعہ ایک مسلمان خاتون ملک کی وزیر اعظم بنیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ سیاسی تحریکیں جب طاقت سے دبا دی جاتی ہیں تو مستقبل میں ان تحریکوں کے نتائج ضرور برآمد ہوتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل