Thursday, July 02, 2026
 

’انجیکشن دوبارہ استعمال کیے جانے کے باعث ایچ آئی وی وائرس سے 9 بچے جاں بحق، سیکڑوں مرض کا شکار ‘

 



سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے صنعتی ملازمین کے بچوں میں حکومت سندھ کے زیر انتظام اسپتال میں مبینہ طور پر ایچ آئی وی وائرس پھیلنے سے متعلق درخواست پر حکومت سندھ سے دو ہفتوں میں رپورٹ طلب کر لی، جبکہ مزید سماعت 20 جولائی تک ملتوی کر دی۔ دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل طارق منصور ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں مبینہ طور پر استعمال شدہ انجیکشن دوبارہ استعمال کیے جانے کے باعث بچوں میں ایچ آئی وی وائرس پھیلا۔ ان کے مطابق 9 معصوم بچے جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ سیکڑوں بچے اس مرض کا شکار ہیں۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 9 بچوں کی ہلاکت کو آٹھ ماہ گزر چکے ہیں، تاہم اب تک کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ قانونی نوٹس کے بعد انکوائری تو کرائی گئی، لیکن اس کی رپورٹ نہ عدالت میں پیش کی گئی اور نہ ہی درخواست گزار کو فراہم کی گئی۔ طارق منصور ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ یونیسف سمیت عالمی ادارے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، حکومت سندھ کے ان اسپتالوں میں تقریباً 10 لاکھ مزدور اور ان کے 80 لاکھ اہل خانہ علاج کراتے ہیں، لیکن متاثرہ بچوں کو مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں، جبکہ جاں بحق بچوں کی اموات کی ایف آئی آر بھی درج نہیں کی جا رہی۔ وکیل کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق صرف سیکرٹری صحت ہی اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرا سکتے ہیں۔ انہوں نے عدالت سے فوری مداخلت کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مزید بچوں کی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔ اس موقع پر جسٹس عدنان کریم نے ریمارکس دیے کہ "مرنا سب کو ہے، لیکن عدالت قانون اور طریقہ کار کے مطابق ہی کارروائی کرے گی۔ جسٹس عدنان اقبال نے کہا، "عدالت کو اپنا کام کرنے دیں، اگر تقریر کرنی ہے تو باہر جا کر کریں۔" عدالت نے ریمارکس دیے کہ فریقین کے جواب موصول ہونے کے بعد ہی کیس کے حقائق کا جائزہ لے کر مناسب فیصلہ کیا جائے گا اور یقین دلایا کہ تمام معاملات عدالت کے سامنے آئیں گے اور قانون کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے گا۔ عدالت نے حکومت سندھ سے دو ہفتوں میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کیے اور کیس کی مزید سماعت 20 جولائی تک ملتوی کر دی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل