Thursday, July 02, 2026
 

واٹس ایپ گروپ کا ممبر یا ایڈمن ہونے سے متعلق ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

 



ہائی کورٹ نے واٹس ایپ گروپس کا ممبر یا ایڈمن ہونے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کردیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق عدالت عالیہ نے واٹس ایپ گروپس سے متعلق ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ صرف کسی واٹس ایپ گروپ کا رُکن یا ایڈمن ہونا بذاتِ خود جرم یا فوجداری ذمہ داری نہیں بنتا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ غیر قانونی یا توہین آمیز مواد اپ لوڈ، فارورڈ یا شیئر کرنے والا شخص خود اپنے عمل کا ذمہ دار ہوگا۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے ایف آئی اے سائبر کرائم کیس میں ملزم سید عبدالمنان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے 13 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔ عدالت نے اس مقدمے کا ٹرائل جلد مکمل کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صرف کسی واٹس ایپ گروپ میں موجودگی یا خاموش رہنا جرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ صرف گروپ ایڈمن ہونے کی بنیاد پر بھی کسی شخص پر فوجداری ذمہ داری عائد نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ واٹس ایپ پر غیر قانونی یا توہین آمیز مواد اپ لوڈ، فارورڈ یا شیئر کرنے والے شخص کے خلاف کارروائی ہوگی۔ فیصلے میں ایف آئی اے کی ٹیکنیکل اینالیسز رپورٹ کو بادی النظر میں قابلِ اعتماد قرار دیتے ہوئے ملزم سید عبدالمنان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست خارج کر دی گئی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل