Thursday, July 02, 2026
 

بھارت میں سؤر کا گوشت کھانے کے بعد خاتون کے دماغ میں 38 کیڑے پیدا ہوگئے

 



برطانیہ سے تعلق رکھنے والی 42 سالہ خاتون اپنی زندگی کے اس عجیب و غریب دور سے گزر رہی ہیں جس کا تعلق 2007 میں بھارت کے دورے سے جڑا ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ویلز کی رہائشی لاؤری ڈینمین کو 2010 میں پہلی بار اس وقت غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب بیت الخلا استعمال کرنے کے بعد انہیں تقریباً ایک میٹر لمبا کیڑا نظر آیا۔ انھوں نے ڈاکٹرز سے رجوع کیا اور چند بنایدی طبی ٹیسٹس بھی کرائے جو نارمل آئے اس لیے لاؤری ڈینمین نے اس واقعے کو زیادہ اہمیت نہیں دی لیکن کچھ عرصے بعد مسلسل اور شدید سر درد نے زندگی اجیرن بنادی۔ یہاں تک کہ اگلے ہی برس 2011 میں خاتون کو مرگی کا پہلا دورہ پڑا۔ یہ دورہ اتنا شدید تھا کہ بولنے میں دشواری ہوئی اور جب ہوش آیا تو وہ ایمبولینس میں موجود تھیں۔ سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی کے بعد ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کے دماغ میں 38 لاروا موجود ہیں۔ ابتدائی طور پر ڈاکٹروں کو شبہ تھا کہ وہ ٹاکسوپلاسموسس نامی بیماری میں مبتلا ہیں تاہم مزید طبی معائنے کے بعد تصدیق ہوئی کہ وہ نیورو سسٹیسرکوسس کا شکار ہیں۔ ماہرین نے بتایا کہ یہ بیماری اس وقت ہوتی ہے جب سور کے ٹیپ ورم کے انڈے انسانی جسم میں داخل ہو کر دماغ سمیت مختلف اعضا میں پہنچ جاتے ہیں اور وہاں رہنے کی جگہ بنا لیتے ہیں۔ وہ تقریباً دو ہفتے اسپتال میں زیر علاج رہیں جہاں انہیں اینٹی پیراسائٹ ادویات اور اسٹیرائیڈز دیے گئے۔ علاج مؤثر بھی ثابت ہوا لیکن چند برس بعد دوبارہ دماغ میں شدید سوجن پیدا ہوگئی، جس کے باعث انہیں ملازمت چھوڑنا پڑی اور والد کے ساتھ رہائش اختیار کرنا پڑی۔ طویل علاج اور بحالی کے بعد ان کی حالت میں نمایاں بہتری آئی۔ دماغ میں موجود تمام لاروا مر کر اس طرح ختم ہو چکے تھے کہ انہیں نکالنے کے لیے کسی سرجری کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ لاؤری کو اسپتال سے رخصت دیدی گئی اور گھر پر بھی ان کی ھالت بہتر رہی۔ 2017 کے بعد سے مرگی کا کوئی دورہ بھی نہیں پڑا تاہم احتیاط کے طور پر انہیں زندگی بھر مرگی کی دوا استعمال کرنا ہوگی۔ لاؤری ڈینمین نے بتایا کہ اسٹیرائیڈز کے شدید مضر اثرات کی وجہ سے ان کی جسمانی ساخت تبدیل ہوگئی جبکہ وہ شدید ڈپریشن، بے چینی اور ذہنی الجھن کا شکار بھی رہیں۔ اُن کے معالج ڈاکٹر برینڈن ہیلی کا کہنا ہے کہ اپنے پورے طبی کیریئر میں اس نوعیت کا صرف ایک ہی کیس دیکھا ہے۔ برطانیہ میں یہ بیماری انتہائی نایاب ہے اور زیادہ تر ایسے افراد میں سامنے آتی ہے جو ان ممالک کا سفر کرتے ہیں جہاں سور کے ٹیپ ورم کا انفیکشن نسبتاً عام ہے۔ صحت یابی کے بعد لاؤری ڈینمین نے برطانوی میڈیا کو بتایا کہ 2007 میں وہ 3 ماہ کے لیے بھارت گئی تھیں۔ سفر کے دوران فوڈ پوائزننگ سے بچنے کے لیے گوشت نہ کھانے کی کوشش کی البتہ سور گوشت سے بنے کچھ کھانے کھائے تھے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق نیورو سسٹیسرکوسس کا خطرہ آلودہ خوراک یا پانی، ناقص صفائی، یا سور کے ٹیپ ورم کے انڈوں کے جسم میں داخل ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔ بیماری سے بچاؤ کے لیے ہاتھوں کی صفائی، محفوظ پانی کا استعمال اور گوشت کو اچھی طرح پکا کر کھانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ لاؤری کا کہنا ہے کہ وہ اب اپنی اس تکلیف دہ داستان کو دوسروں میں آگاہی پھیلانے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں تاکہ لوگ اس نایاب مگر خطرناک بیماری سے متعلق احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں۔    

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل