Friday, July 03, 2026
 

وزیر اعظم کی متعدی امراض کے پھیلاؤ کے سد باب کےلیے غیرمعیاری سرنجز پر مکمل پابندی لگانے کی ہدایت

 



وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایڈز اور ہیپاٹائٹس سی جیسے متعدی امراض کی روک تھام سے متعلق اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر میں بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ متعدی امراض کے فوری سدباب کے لیے ملک بھر میں غیر معیاری سرنجوں کی تیاری اور استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جائے، جبکہ خلافِ ضابطہ سرنجوں کے استعمال میں ملوث یا اس کی روک تھام میں مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد اور اسپتالوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے متعدی امراض پر قابو پانے کے لیے ماہرین پر مشتمل خصوصی کمیٹی تشکیل دینے، صوبوں سے مشاورت یقینی بنانے اور وزارتِ قانون کو متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر قانونی اور ضابطہ جاتی نظام میں ضروری ترامیم تجویز کرنے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ قومی سطح پر جامع حکمت عملی کی تشکیل اور اس پر مؤثر عمل درآمد ہی اس مسئلے کا پائیدار حل ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ادارۂ ادویاتِ پاکستان (ڈریپ) طبی آلات تیار کرنے والی صنعت سے مشاورت کر کے سرنجوں کے ذریعے متعدی امراض کے پھیلاؤ کی مستقل روک تھام کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات تجویز کرے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ متعدی امراض کے خلاف جاری کوششوں میں بین الاقوامی شراکت داروں کا تعاون نہایت اہم ہے، جبکہ علاج میں استعمال ہونے والے طبی آلات کی مقامی تیاری اور شعبۂ صحت سے وابستہ عملے کی عالمی معیار کے مطابق تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اجلاس میں وزیراعظم کی ہدایت پر قائم خصوصی ٹاسک فورس اور وزارتِ قومی صحت کی جانب سے متعدی امراض کے سدباب کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر قانون، وزیرِ مملکت برائے صحت مختار احمد برتھ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، عالمی فنڈ کی نمائندہ، صحتِ عامہ کے ماہرین، ادارۂ ادویاتِ پاکستان کے نمائندگان اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل