Loading
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی درخواست کی ہے اور یہ ملاقات ممکنہ طور پر نیٹو اجلاس کے بعد جلد ہو سکتی ہے۔
امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک مختصر ٹیلی فونک گفتگو میں کہا، "ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں، نیتن یاہو جانتے ہیں کہ اصل باس کون ہے،" جس میں وہ اپنی طرف اشارہ کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات دونوں رہنماؤں کے درمیان فروری میں ہونے والی ملاقات کے بعد پہلی براہِ راست ملاقات ہوگی۔ اس وقت دونوں رہنماؤں نے وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں ملاقات کی تھی، جہاں اسرائیل کی جانب سے ایران سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی گفتگو ہوئی تھی۔
ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ اگلے ہفتے ملاقات کا امکان موجود ہے، تاہم امریکی صدر کی 7 اور 8 جولائی کو ترکیہ میں ہونے والے نیٹو اجلاس میں مصروفیات کے باعث یہ ملاقات ایک ہفتہ مزید مؤخر بھی ہو سکتی ہے۔
ادھر اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بنجمن نیتن یاہو نے امریکا کے 250ویں یومِ آزادی کے موقع پر صدر ٹرمپ کو فون کر کے مبارک باد دی۔
بیان کے مطابق گفتگو کے دوران نیتن یاہو نے امریکا کو عالمی آزادی کا ضامن قرار دیا اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے جلد امریکا میں ملاقات پر بھی اتفاق کیا۔
دوسری جانب ایگزیوس کی رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ فروری کی ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ کے بعض قریبی مشیروں میں نیتن یاہو کی پالیسیوں کے حوالے سے شکوک و شبہات میں اضافہ ہوا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹرمپ کے بعض قریبی ساتھیوں کا خیال ہے کہ نیتن یاہو نے کئی اہم معاملات میں غلط اندازے لگائے تھے، تاہم اس حوالے سے وائٹ ہاؤس یا اسرائیلی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل