Loading
آزاد کشمیر میں کالعدم تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے20 سے 25 نقاب پوش افراد نے مبینہ طور پر انجمن تاجران ارجہ کے سیکریٹری جنرل سردار ناصر ارباب اور ان کے کزن حسام پر بدترین تشدد کیا اور انہیں نیم مردہ حالت میں پھینک کر فرار ہوئے اور شدید فائرنگ بھی کی گئی تاہم فائرنگ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
آزاد جموں و کشمیر میں گزشتہ روز جنڈالہ کراس کے قریب کالعدم تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے درخت کاٹ کر مین سڑک بند کی گئی تھی جس کی وجہ سے ڈیڈ باڈی لے جانے والی ایک ایمبولینس بھی پھنس گئی تھی جہاں تاجر رہنما راستہ بنانے پہنچے تھے۔
اس ضمن میں بتایا گیا کہ انجمن تاجران ارجہ کے سیکریٹری جنرل سردار ناصر ارباب چند نوجوانوں کے ہمراہ ایمبولینس کے لیے راستہ بنانے مذکورہ مقام پر پہنچے ہی تھے کہ کالعدم تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 20 سے 25 افراد نے اندھادھند فائرنگ شروع کر دی اور سردار ناصر ارباب اور اس کے کزن حسام کو گن پوائنٹ پر روک لیا اور تشدد کرتے ہوئے راولاکوٹ کی طرف سڑک پر گھسیٹتے ہوئے ہلاں بازار تک لے گئے۔
مزید بتایا گیا کہ ہلاں بازار سے ہائی ایس گاڑی جو پہلے سے وہاں موجود تھی میں ڈال کر پانیولہ لے گئے جہاں پر صبح 6 بجے تک تشدد کرتے رہے جبکہ ناصر ارباب اور حسام ان افراد کی منت سماجت کرتے رہے لیکن کالعدم تنظیم کے یہ تشدد پسند افراد اس بات پر مصر رہے کہ تم انتظامیہ کو دیگیں پکا کر دیتے ہو۔
سردار ناصر ارباب شدید تشدد کے باعث بے ہوش ہو گئے جنہیں بعدازاں نیم مردہ حالت میں ہلاں بازار کے پاس سڑک کنارے پھینک کر کالعدم کمیٹی کے افراد فرار ہو گئے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل