Loading
آئی جی اسلام آباد پولیس سید علی ناصر رضوی نے کہا ہے کہ ایئرفورس کپیٹن کو فائرنگ کرکے شہید کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایئرفورس کے بہادر گروپ کیپٹن عاصم کو شہید کرنے کا واقعہ صبح 11 بج کر 21 منٹ پر پیش آیا، یہ واقعہ ہمارے لئے ایک چیلنج تھا جس کی فوری تفتیش شروع کی، ملزم محمد سعد عباسی اور نمرہ نامی خاتون میلوڈی میں کیش اینڈ کیری اسٹور پر کام کرتے تھے، پہلے بھی دو مرتبہ یہ اکٹھے آئے، آج ملزم خاتون کو پارک یا کسی اور جگہ لے جانا چاہتا تھا، خاتون نے انکار کیا تو لڑکے نے زبردستی شروع کردی۔
آئی جی نے کہا کہ گروپ کیپٹن نے دیکھا اور واپس مڑ کر ساتھ گاڑی کھڑی کرکے اسے روکا، لڑکی دوبارہ مڑی اور کار کی طرف آئی، ملزم سعد عباسی بھی موٹر سائیکل لے کر مڑا، موٹر سائیکل سوار سعد عباسی نے پستول سے گروپ کیپٹن پر فائر کردیا۔
انہوں نے کہا کہ خاتون کو اسٹور پر آئے دس دن نہیں ہوئے تھے، ملزم میں صرف شیطانیت تھی اور وہ زبردستی خاتون کو ساتھ لے جانا چاہتا تھا، اس کیس میں ملزم کی گرفتاری کے لیے 11 پولیس ٹیمیں تشکیل دی گئیں، ہم نے 275 سیف سٹی کمرے دیکھے، ہم نے اے آئی کیمروں کے ذریعے ملزم کی تمام کی تمام رپورٹس لیں، ہمیں ایک بہت ٹھوس ذریعہ ملا۔
آئی جی نے بتایا کہ سفاک قاتل کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے، اسلام آباد سے جس وقت اسے گرفتار کیا تو اس نے اسکائی ویز کا ٹکٹ لیا ہوا تھا، ملزم نے موبائل ڈیٹا بھی بند کیا ہوا تھا، تمام گیارہ ٹیمز آپس میں رابطے میں تھیں، واقعہ کے نو گھنٹوں میں ملزم سعد عباسی کو گرفتار کرلیا گیا، ایک کیمرے کی ویڈیوز کو اینالائز کرنے میں تین گھنٹے لگتے ہیں ہم نے جدید اے آئی اور دیگر ٹولزُ استعمال کرکے فوری تفتیش تیز کی، ملزم نے جب خاتون کو پک کیا تو وہ تمام راستہ بالکل ایک فیملی کی طرح بائیک پر آئے، ملزم کی شیطانیت خاتون پر وقوعہ کی جگہ پر ہی عیاں ہوئی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل