Loading
اچھی جمہوری حکومت کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے منشور کے مطابق عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کے لیے ایسی پالیسیاں اور منصوبے بناتی ہے جن سے عوام الناس کو فیض پہنچے، لوگوں کے مسائل حل ہوں اور انھوں نے جن امیدوں اور توقعات کے ساتھ اپنے نمایندوں کو ووٹ دیا ہے اور انتخابی مہم کے دوران سیاسی جماعتوں کے قائدین نے لوگوں سے جو وعدے کیے ہیں وہ اقتدار میں آ کر پورے کیے جائیں۔
آپ پاکستان کی سیاسی تاریخ اور برسر اقتدار حکومتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور ان کے منشور اور عوام سے کیے گئے ان وعدوں اور دعووں کی چھان پھٹک کریں تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اقتدار کی راہداریوں میں داخل ہونے کے بعد عوامی نمایندگی کا دعویٰ کرنے والے عوام کو بھول جاتے ہیں۔ ان کے کیے گئے وعدے اور دعوے پانی کے بلبلوں کی طرح ان کے اذہان سے غائب ہو جاتے ہیں۔ اسمبلیوں کے ٹھنڈے ماحول میں بیٹھ کر انھیں صرف اپنے سیاسی، جماعتی اور ذاتی مفادات یاد رہ جاتے ہیں۔
عوام کی فریاد ان کی سماعتوں تک نہیں پہنچ پاتی۔ اس باعث صاحبان اقتدار ایسے منصوبے پالیسیاں بناتے ہیں اور ایسی آئینی ترامیم اور قانون سازی کرتے ہیں جن سے ان کے سیاسی و جماعتی مفادات وابستہ ہوتے ہیں اور ان کی حکومت کو تحفظ اور طوالت حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے حکومتی اقدامات اور فیصلے مبصرین، تجزیہ نگاروں اور ماہرین و صائب الرائے طبقے کی نظر میں تنقید کا نشانہ بنتے ہیں۔ پریس و الیکٹرانک میڈیا میں حکومتی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔
نہ صرف اندرون وطن بلکہ بیرون دنیا میں ذرائع ابلاغ اور عالمی ادارے حکومتی کارکردگی کی جانچ پڑتال کرتے ہیں اور درست اقدامات کے لیے مشورے بھی دیتے ہیں خاص طور پر مالی امداد فراہم کرنے والے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک حکومتوں کی کارگزاریوں پر کڑی نظر رکھتے ہیں اور باز پرس بھی کرتے ہیں جیساکہ پچھلے دنوں ورلڈ بینک نے پاکستانی عوام کو درپیش مسائل بالخصوص مہنگائی کی تشویش ناک صورتحال پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور ساتھ ہی بعض اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
عالمی بینک نے اپنی حالیہ رپورٹ میں نہ صرف صوبوں کو وسائل کی تقسیم کے حوالے سے قومی مالیاتی کمیشن یعنی این ایف سی ایوارڈ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اصلاحات کی سفارش کی ہے بلکہ قومی مالیاتی نظام کی کمزوریوں اور خامیوں کو اجاگر کرتے ہوئے برملا یہ کہا ہے کہ وفاقی اخراجات میں کوئی کمی نظر نہیں آئی۔ رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت سماجی خدمات جن میں تعلیم اور صحت نمایاں ہیں اور معاشی شعبوں کی ذمے داریاں صوبوں کو منتقل ہو چکی ہیں لیکن وفاق اب بھی ان شعبوں میں سرگرم ہے۔ بعینہ ہی بلدیاتی حکومتوں کو واضح اور مالی وسائل فراہم نہیں کیے گئے۔ عالمی بینک نے اشیا پر جی ایس ٹی کے نفاذ کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے عوام الناس کی زندگیوں میں بہتری نہ آنے پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں جامع اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
عالمی بینک کے مذکورہ تحفظات و اعتراضات اور سوالات حکومت کی گزشتہ تین سالہ کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ حکومت نے اٹھارویں ترمیم کے تحت مختلف النوع شعبوں و اختیارات کی صوبائی حکومتوں کو منتقلی کے حوالے سے پوری سنجیدگی سے عمل نہیں کیا جس پر مبصرین و تجزیہ نگار سوالات اٹھاتے رہتے ہیں لیکن اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کی خاطر حکومتیں اٹھارویں ترمیم پر کماحقہ عمل درآمد سے گریزاں رہی ہیں۔ حکومت نے موجودہ بجٹ میں مختلف النوع عوامی استعمال کی اشیا پر جی ایس ٹی نافذ کرکے عام آدمی پر مہنگائی کے کوڑے برسانے میں کوئی تامل نہیں کیا۔
بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بارہا اضافے سے پہلے ہی اشیا ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے، ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ چکے ہیں، بجا کہ حکومت نے پٹرولیم و ڈیزل کی قیمتوں میں کچھ کمی کی ہے لیکن یہ ایران امریکا جنگ کی ابتدا سے پہلے والی سطح سے اب بھی کم ہیں۔ طرفہ تماشا یہ کہ جن اشیا ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے وہ پہلے کی سطح پر نہیں آئیں۔ حکومت کا پرائس کنٹرول سسٹم پوری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ ادارے مفلوج ہو چکے ہیں، کرپشن اپنے عروج پر ہے۔
وزیر اعظم کہتے ہیں کہ FBR میں کرپٹ عناصر کی جگہ نہیں، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور ادارے میں اصلاحات لائیں گے لیکن ایک آڈٹ رپورٹ کے مطابق وفاقی وزارتوں، ڈویژنوں اور خودمختار اداروں میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے جو موجودہ حکومت کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ میں اٹھائے گئے سوالات کا جواب کون دے گا؟ مبصرین کے مطابق حکومت داخلی و خارجی مسائل کے حوالوں سے جنم لینے والے سوالات کے جواب دینے میں سنجیدہ نہیں ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل