Loading
تقریباً13برس قبل روٹرڈیم ( نیدر لینڈز) کی یونیورسٹی (Erasmus) نے ایک ادارے کی بنیاد رکھی۔ اِسے ’’دُنیا بھر کے بچوں کے حقوق کا بنیادی پیمانہ‘‘ سے موسوم کیا گیا : Kids Rights Indexیہ عالمی ادارہ دُنیا بھر کے بچوں کے حقوق کے تحفظ کا جائزہ لیتا رہتا ہے اور سال کے بعد اِس بارے تحقیقی رپورٹ شائع کرتا ہے ۔ ’’کڈز رائٹس انڈیکس‘‘ یہ دیکھتا ہے کہ دُنیا کے کن کن ممالک میں بچوں کی صحت ، تعلیم ، خوراک ، سیکورٹی کا کتنا اور کہاں تک خیال رکھا جاتا ہے ؟ اور یہ کہ کن کن ممالک میں بچوں پر کس انداز میں ذہنی ، نفسیاتی اور جسمانی تشدد کیا جاتا ہے؟مذکورہ ادارے نے یکم جولائی کو Kids Rights Index 2026کی تازہ ترین رپورٹ شائع کر دی ہے ۔
اِس رپورٹ کا عالمی سطح پر غلغلہ ہے ۔ اِس رپورٹ کے مطابق: مغربی دُنیا کے صرف تین ایسے ٹاپ کے ممالک ہیں جہاں بچوں کی سب سے زیادہ نگہداشت کی جاتی ہے اور جہاں بچوں کی سیکورٹی ، صحت ، تعلیم اور تحفظ کا سب سے زیادہ خیال رکھا جاتا ہے ۔: آئس لینڈ، سوئٹزرلینڈ اور فِن لینڈ!گویا کہا جا سکتا ہے کہ مذکورہ تینوں ممالک میں جنم لینے والے بچے دُنیا کے خوش قسمت ترین بچے ہیں ۔ اِس تازہ ترین انڈیکس میں پیش کردہ حقائق اور تحقیقات کے مطابق: دُنیا کا کوئی ایک بھی مسلمان ملک بچوں کے لیے آئیڈیل نہیں ہے۔
مذکورہ بالا ’’کڈز رائٹس انڈیکس2026‘‘ کا کہنا ہے :’’ ہم نے بچوں کے بنیادی حقوق ، تحفظ، صحت ، تعلیم بارے دُنیا کے194ممالک کا تحقیقی جائزہ لیا ۔ اور ہم اِس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ طالبان کا افغانستان سب سے آخری نمبر پر ہے :194ویں درجے پر۔‘‘ اِس سے نیچے فہرست میں تو اور کوئی درجہ ہی نہیں ہے ۔ رپورٹ کہتی ہے کہ ’’ طالبان کے افغانستان میں بچوں کے جملہ بنیادی حقوق نہ صرف سلب کیے گئے ہیں ، بلکہ اِنہیں کچل کر رکھ دیا گیا ہے ۔‘‘مذکورہ انڈیکس کی تازہ ترین رپورٹ کو اقوامِ متحدہ کے ایک ذیلی ادارے UNICEF( جو عالمی سطح پر بچوں کے حقوق و خوراک کا جائزہ بھی لیتا ہے )کی رپورٹ نے مزید تقویت دی ہے ۔ ’’یونیسف‘‘ کی رپورٹ کے مطابق: طالبان کے افغانستان میں رواں لمحوں کے دوران ایک کروڑ 16لاکھ بچے بنیادی حقوق کے حوالے سے شدید محرومیوں کا شکار ہیں۔
انہیں مناسب خوراک میسر ہے، نہ بنیادی تحفظ ، نہ تعلیم دستیاب اور نہ ہی افغان بچوں کی مناسب نگہداشت کی جارہی ہے۔ مزید ظلم یہ ہے کہ متشدد افغان طالبان کے افغانستان میں کمسن بچیوں کی خریدو فروخت فروغ پا رہی ہے ۔ اِس ضمن میں ایک غیر ملکی انگریزی میڈیا میں سیمین حیدری کا جو مفصل آرٹیکل شائع ہُوا ہے ، اِس میں واضح الفاظ میں انکشافات کیے گئے ہیں کہ افغان طالبان کے موجودہ دَور میں معصوم اورکمسن افغان بچیوں کی خریدو فروخت جاری ہے۔ سیمین حیدری نے اپنی رپورٹ میں فروخت شدہ کئی افغان بچیوں کے نام بھی لکھ دیئے ہیں۔اِن حقائق نے دُنیا کو دہلا کر رکھ دیا ہے ۔ متشدد افغان طالبان کا افغانستان آج اپنے ہمسایوں کے لیے ہی عذاب نہیں بن گیا ، بلکہ طالبان کا افغانستان اپنے شہریوں کے بچوں کا تحفظ کرنے میں بھی ناکام ہو چکا ہے ۔
دُنیا بھر کے بچوں کے حقوق بارے روٹرڈیم یونیورسٹی کی یہ سالانہ رپورٹ متشدد افغان طالبان کی پوری حکومت کے لیے ندامت کا باعث بننی چاہیے تھی ، مگر وہ شرمندہ ہونے کی بجائے اکڑتے ہُوئے کہہ رہے ہیں کہ یہ رپورٹ ہے ہی غلط! مذکورہ رپورٹ کی بازگشت افغان طالبان کی حکومت تک پہنچی تو ’’امارتِ اسلامیہ‘‘ افغانستان کے نائب ترجمان ، حمد اللہ فطرت، نے بیان داغتے ہُوئے کہا:’’ کڈز رائٹس انڈیکس 2026 کی یہ رپورٹ بے بنیاد بھی ہے اور جھوٹ کا پلندہ بھی ۔ ہم اِسے تسلیم نہیں کرتے ۔آج کے افغانستان میں افغان بچوں کے جملہ حقوق کا زبردست تحفظ کیا جا رہا ہے ۔
ہم نے تو افغانستان میں بچوں کی مشقت پر بھی قطعی پابندیاں عائد کردی ہیں۔‘‘جب کہ حقیقت یہ ہے کہ طالبان کے افغانستان میں بچوں سے مشقت بھی کروائی جارہی ہے اور افغان بچوں کی غلامی کا مکروہ کاروبار بھی جاری ہے ۔ متشدد طالبان کے مطلق امیر کے حکم سے جو تازہ قانون منظور کیا گیا ہے ، اِس کے مطابق غریب ، سماجی طور پر کم درجے کے افغان شہریوں کے بچوں کی تو زندگیاں ہی جہنم بنا دی گئی ہیں ۔ متشدد افغان طالبان کی حکومت میں افغان خواتین کو کس وحشت سے زندہ درگور کر دیا گیا ہے ، یہ حقیقت تو ساری دُنیا پر اظہر من الشمس ہے ۔
ہٹیلے اور اپنی جہالتوں پر قائم متشدد افغان طالبان کو اپنے ہی کیے کرائے کی اساس پر عالمی سطح پر شناخت مل رہی ہے نہ منظوری ۔ وہ پنڈولم کی طرح عالمی منظر نامے پر جھُول رہے ہیں ۔ صرف رُوس ہے جس نے ابھی تک طالبان حکومت کو تسلیم کیا ہے ۔ پاکستان میں طالبان سفارتکار موجود تو ہیں ، مگر پاکستان نے بھی ہنوذ طالبان حکومت کو باقاعدہ تسلیم نہیں کیا ہے ۔ طالبان کے افغانستان نے بھارت سے پینگیں بڑھا کر جس طرح پاکستان کے خلاف عناد اور دہشت گردی کو فروغ دیا ہے، ایسے میں پاکستان اور اہلِ پاکستان بھلا طالبان اور مُلّا ہبت اللہ کی حکومت کو کیوں ، کیسے اور کیونکر تسلیم کر لیں؟رُوس نے اگرچہ افغان طالبان کو دہشت گردی کی فہرست سے نکال دیا ہے ، مگر رُوس افغان طالبان حکام کی جانب سے دہشت گردوں کی مسلسل سرپرستی کا بھی اقرار کررہا ہے ۔
مثال کے طور پر جون2026 کے وسط میں رُوسی خبر رساں ادارے TASSنے رُوسی وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر Pyotr Ilyichevکے حوالے سے کہا:’’افغان طالبان حکومت میں اب بھی20سے 30ہزار دہشت گرد موجود ہیں ۔‘‘ گویا اِن ہزاروں مسلّح دہشت گردوں کو افغان طالبان حکام کی اشیرواد اور سرپرستی حاصل ہے۔ متشدد افغان طالبان حکومت بارے یہ خوفناک انکشاف حالیہ ایام میں اُس وقت سامنے آیا جب رُوس کے زیر اہتمام CIS(کامن ویلتھ انڈی پینڈنٹ اسٹیٹس) کا19واں اجلاس ہُوا ۔ ایسے انکشافات کی موجودگی میں پاکستان سمیت دُنیا کیسے افغان طالبان پر اعتبار اور اعتماد کر سکتی ہے ؟
جب سے طالبان نے افغانستان پر بزورِ بندوق قبضہ کیا ہے (اِس میں بدقسمتی سے پاکستانی کردار کو منہا نہیں کیا جا سکتا)، تب سے اب تک طالبان کا افغانستان اپنے شہریوں اور اپنے سبھی ہمسایوں کے لیے عذاب اور بھیانک خواب بنا ہُوا ہے ۔ پاکستان ( جو کئی اعتبار سے طالبان کا محسن ہے) طالبان کی حکومت سے ، منفی طور پر، سب سے زیادہ متاثر ہُوا ہے ۔ اگر ہم ISPRکے سربراہ ( جنرل احمد شریف چوہدری صاحب) کے میڈیا کو پیش کردہ حقائق سامنے رکھیں تو دل دہل کررہ جاتا ہے ۔ افغان طالبان پچھلے پانچ برسوں کے اقتدار کے دوران ہزاروں پاکستانی شہریوں اور پاکستانی سیکورٹی جوانوں اور افسروں کو شہید کر چکے ہیں ۔ شہدا میں کئی کپتان، میجر اور کرنل بھی شامل ہیں ۔
بھارتی گود میں بیٹھ کر پاکستان اور پاکستانیوں کے خلاف دہشت گردی کی خونریز وارداتیں کرنے والے افغان طالبان کے اِس بہیمانہ کردار کو آیا پاکستانی فراموش کر دیں؟ ناممکن ! متشدد افغان طالبان نے اپنے منفی اور دہشت گردانہ کردار سے دُنیا میں اپنا اعتبار کھو دیا ہے۔ تازہ مثال 26جون2026 کو یوں سامنے آئی ہے : ’’ رُوسی صدر ،جناب پوٹن ، کے خصوصی ایلچی ضمیر کابلوف (Zamir Kabulov) نے اعلان کیا ہے کہ عنقریب SCO( شنگھائی تعاون تنظیم) کے سالانہ اجلاس میں طالبان کا افغانستان بطورِ کامل رکن شریک ہونے کے قابل نہیں ہے ۔ ایس سی او کے ایک معزز رکن نے طالبان حکومت کی کارستانیوں پر سخت اعتراضات اُٹھائے ہیں ۔ ہاں، طالبان کا کوئی نمایندہ بطورِ مبصر و مشاہد (Observer) ایس سی او کے اجلاس میں شرکت کر سکتا ہے ۔‘‘
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ متشدد طالبان کا افغانستان عالمی فورموں میں بھرپور شرکت سے محروم ہو رہا ہے ۔ تشدد پسند افغان طالبان نے اپنے اعمال و افعال اور کردار سے دُنیا کی اکثریت کا اعتماد اور اعتبار کھو دیا ہے ۔ اِس کا نقصان متشدد اور ہٹیلے افغان طالبان حکمرانوں کو تو ہو ہی رہا ہے ، غریب اور دو وقت کی روٹی کو ترستے اور جدید تعلیم و صحت سے محروم عام افغان زیادہ خسارے میں ہیں ۔ مگر ہر ہفتے امریکہ سے ملنے والے نقد40ملین ڈالروں سے عیاشیاں کرنے والے مُلّا افغان طالبان حکام کو عام بے کس افغانیوں کی کوئی پروا ہے نہ پریشانی ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل