Loading
کراچی کے علاقے ملیر الفلاح میں بابا ولایت شاہ مزار کے قریب 11 سالہ بچی کی ہلاکت کا واقعہ نیا رخ اختیار کر گیا ہے جہاں اہلخانہ نے پولیس کے حادثے کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے قتل کا الزام عائد کیا ہے۔
پولیس نے ابتدائی طور پر واقعے کو جھولے سے گرنے کا حادثہ قرار دیا تھا، تاہم اہلخانہ کا کہنا ہے کہ ان کی بچی فریدہ کو جھولے والے نے ڈنڈے کے وار کرکے قتل کیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بچی کے اہلخانہ نے الزام لگایا کہ فریدہ اپنی والدہ کے ساتھ مزار کے قریب موجود تھی اور اس نے جمپنگ جھولے پر ہاتھ رکھا جس پر جھولے والے نے مبینہ طور پر اس کے سر اور گردن پر ڈنڈے سے وار کیے۔
اہلخانہ کے مطابق بچی کو اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ راستے میں ہی دم توڑ گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ گردن اور سر پر ڈنڈے لگنے کے باعث بچی کی جان گئی۔
بچی کے دادا نے دعویٰ کیا کہ محسن نامی شخص نے بچی کو ڈنڈا مارا جس کی علاقے میں پنکچر کی دکان ہے جبکہ دادی نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ سر اور گردن پر لگنے والی چوٹیں ہی موت کی وجہ بنیں۔
اہلخانہ نے مزید الزام عائد کیا کہ واقعے کے بعد ہم نے پولیس کو بیان دیا جس پر دو افراد گھر میں آئے، خواتین پر تشدد کیا اور پستول کے بٹ مار کر زخمی کر دیا۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا ہے، لیکن تاحال نہ کوئی مقدمہ درج کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
دوسری جانب پولیس کی جانب سے ان الزامات پر تاحال باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل