Tuesday, July 07, 2026
 

کراچی میں وضو کے دوران دماغ کھانے والا جرثومہ جسم میں داخل، 40 سالہ شہری انتقال کرگئی

 



کراچی میں رواں سال نیگلیریا فاؤلری سے پہلی ہلاکت ہوئی، 44 سالہ شہری جان کی بازی ہار گیا، جرثومہ مبینہ طور پر وضو کے دوران دماغ میں داخل ہوا تھا۔ تفصیلات کے مطابق شہر میں رواں سال دماغ خور جرثومے نیگلیریا فاؤلری سے پہلی ہلاکت سامنے آگئی۔  کورنگی ساڑھے تین کے رہائشی 44 سالہ شخص، جو دو بچوں کا باپ تھا دورانِ علاج انتقال کر گیا۔ اسپتال حکام کے مطابق مریض کو 5 جولائی کو شدید بخار، سر درد اور اعصابی پیچیدگیوں کے باعث نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں مختلف طبی معائنوں اور تشخیصی ٹیسٹوں کے بعد 6 جولائی کو مریض میں نیگلیریا فاؤلری کی تصدیق ہوئی۔ دماغ میں شدید انفیکشن کے باعث مریض کی حالت تشویشناک ہونے پر اسے انتہائی نگہداشت وارڈ میں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا، جہاں وہ جانبر نہ ہوسکا۔ اہلِ خانہ کے مطابق علاج پر آنے والے بھاری اخراجات کے باعث مریض کو دوسرے اسپتال منتقل کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی تھی لیکن اس سے قبل ہی وہ دم توڑ گیا۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ مریض کی حالیہ عرصے میں کسی دوسرے شہر یا ملک کی سفر کی کوئی ہسٹری نہیں تھی، نہ ہی وہ کسی سوئمنگ پول یا واٹر پارک گیا تھا۔ ان کے مطابق ممکنہ طور پر مریض وضو کے دوران ناک کے ذریعے آلودہ پانی داخل ہونے سے نیگلیریا فاؤلری کا شکار ہوا۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق گزشتہ سال نیگلیریا فاؤلری کے سات کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ رواں سال یہ پہلا تصدیق شدہ کیس اور پہلی ہلاکت ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق نیگلیریا فاؤلری ایک نہایت خطرناک جرثومہ ہے جو عموماً صاف اور میٹھے پانی میں نشوونما پاتا ہے۔ یہ جرثومہ ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہونے پر دماغ تک پہنچ کر شدید انفیکشن پیدا کرتا ہے، جسے پرائمری امیبک مینینگو اینسیفلائٹس کہا جاتا ہے۔ یہ بیماری انتہائی تیزی سے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے اور تاحال اس کا مؤثر علاج دستیاب نہیں۔ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ گھروں کی پانی کی ٹنکیوں اور ذخیرہ شدہ پانی میں مناسب مقدار میں کلورین کا استعمال یقینی بنائیں، کیونکہ کلورین نیگلیریا فاؤلری کی افزائش کو روکنے میں مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل