Wednesday, July 08, 2026
 

لاہور میں تاریخی گوردوارہ چھٹی پادشاہی کو سکھ کمیونٹی کے حوالے کردیا گیا

 



پاکستان میں موجود سکھوں کے مقدس مقامات اور گردواروں کی بحالی کے منصوبے کے تحت لاہور کے علاقے قینچی چونگی امرسدھو میں واقع تاریخی گوردوارہ چھٹی پادشاہی کو سکھ کمیونٹی کے حوالے کردیا گیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق مقامی انتظامیہ اور پولیس کی کارروائی کے بعد مبینہ غیر قانونی قابضین سے گوردوارے کا قبضہ واگزار کرا کے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا گیا اور قیامِ پاکستان کے بعد پہلی بار یعنی 77 برس بعد اس گردوارے میں مذہبی رسومات ادا کی گئیں۔ تقریب کے دوران سکھ سنگت نے سری گرو گرنتھ صاحب کا پاٹھ کیا جبکہ گربانی اور نام سمرن کی روحانی تقریب بھی منعقد ہوئی۔ شرکا نے اسے سکھ برادری نے اس اقدام کو ایک تاریخی اور جذباتی لمحہ قرار دیا۔   سکھ رہنما ڈاکٹر گلاب سنگھ نے کہا کہ مقامی انتظامیہ، پولیس، متروکہ وقف املاک بورڈ کے ایڈیشنل سیکریٹری ناصر مشتاق اور پنجاب کے وزیر برائے اقلیتی امور و انسانی حقوق سردار رمیش سنگھ اروڑا کی کوششوں سے گوردوارہ غیر قانونی قبضے سے واگزار کرایا گیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی عبادت گاہ کو دوبارہ سکھ برادری کے لیے بحال کرنا ایک اہم پیش رفت ہے۔ ڈاکٹر گلاب سنگھ نے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے گوردوارہ چھٹی پادشاہی کی مکمل بحالی اور مرمت کی اپیل بھی کی تاکہ اس تاریخی اور مذہبی ورثے کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنایا جا سکے۔ پاکستان سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی کے سربراہ اورپنجاب کے وزیربرائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے بتایا کہ پاکستان میں موجود مزید 50 گردوارے فعال کئے جارہے ہیں، پہلے مرحلے میں 17 گردواروں کی آرائش وتزئین اوربحالی کا کام کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سکھوں کے لئے پاکستان ان کا پہلا گھر ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق چھٹے سکھ گرو، گرو ہردوبند صاحب، نے 1619ء میں اس مقام کی زیارت کی تھی، جبکہ بعد ازاں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے یہاں گوردوارہ تعمیر کرایا۔ 1922ء میں سر گنگا رام نے اس کی توسیع اور تزئین و آرائش کرائی تھی۔ قیامِ پاکستان کے بعد یہ گوردوارہ طویل عرصے تک غیر فعال رہا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل