Loading
مودی کی سرپرستی میں غیررجسٹرڈ انتہاپسند ہندو تنظیم آرایس ایس کے پس پردہ مذموم عزائم سامنے آگئے۔
عالمی جریدہ دی ڈپلومیٹ نے ہندوانتہا پسند تنظیم آرایس ایس کے اوچھے ہتھکنڈے عیاں کردیے، دی ڈپلومیٹ کے مطابق بی جے پی کو نظریاتی بنیاد اور تنظیمی پشت پناہی کرنے والی ہندو انتہاپسند تنظیم آر ایس ایس ایک صدی بعد بھی غیر رجسٹرڈ ہے۔
رپورٹ کے مطابق آرایس ایس نہ تو خود کو ٹرسٹ اور نہ کوئی این جی او قرار دیتی ہے اسی لیے وہ مالیاتی اور دیگر سرکاری جانچ پڑتا اور ٹیکسز سے آزاد ہے، ہندوانتہاپسند تنظیم آرایس ایس پچھلے سال امریکہ میں لابنگ کیلئے 330,000 ڈالرز خرچ کر چکی ہے۔
دی ڈپلومیٹ کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر کی عمارت 3.75 ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے جس میں 13 منزلہ تین ٹاورز ہیں، آرایس ایس کی بہت سی جائیدادیں مختلف افراد کے ناموں پر رجسٹرڈ ہیں، آرایس ایس اس لیے خفیہ کام کرتی ہے کیوں کہ اس کا اصل مقصد ایک انتہاپسند ہندو ریاست کا قیام ہے، آر ایس ایس آئین کو پامال کرنے، مسلم سمیت دیگراقلیتوں پرظلم اور نفرت و تقسیم کے فروغ میں ملوث ہے۔
کانگریس کے رہنما پریانک کھرگے نے آرایس ایس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کریڈٹ لینے میں سب سے آگے ہیں تو آر ایس ایس اور بی جے پی کو کرپشن کا بھی حساب دینا ہوگا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل