Wednesday, July 08, 2026
 

لیاری ایلیویٹڈ ایکسپریس وے کے پی ٹی خود مکمل کرے یا پارٹنرشپ کرے، قائمہ کمیٹی

 



قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے تجویز کیا ہے کہ کراچی لیاری ایلیویٹڈ ایکسپریس وے منصوبہ کراچی پورٹ ٹرسٹ خود مکمل کرے یا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت شروع کیا جائے،چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ کراچی میں رات کے وقت کنٹینرز کی آمدورفت شہریوں کے لیے شدید مسائل کا باعث بن رہی ہے، اس لیے منصوبے کی جلد تکمیل ضروری ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس چیئرمین مرزا اختیار بیگ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں لیاری ایلیویٹڈ ایکسپریس وے منصوبے پر تفصیلی غور کیا گیا- اجلاس میں این ایچ اے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کوریائی کمپنی نے منصوبے کی لاگت 164 ارب روپے لگائی تھی، جبکہ این ایچ اے کا تخمینہ 88 ارب روپے تھا۔ حکام کے مطابق کوریائی کمپنی نے منصوبے میں اسٹیل پل کی تعمیر کی تجویز بھی دی تھی۔جاوید حنیف نے کہا کہ یہ منصوبہ کراچی پورٹ سے ایم-9 موٹر وے تک رابطے کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ کوریا سے صرف قرض لیاجائے،تعمیراتی کام مقامی سطح پر کرایا جائے کیونکہ پاکستان کی لاگت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے لیے 68 ارب روپے کوئی بڑی رقم نہیں اور ادارہ اپنے وسائل سے تین سال میں منصوبہ مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ان کے مطابق کے پی ٹی پہلے بھی اپنے 150 ارب روپے سے بندرگاہ کے مختلف منصوبے مکمل کر چکا ہے۔ کے پی ٹی حکام نے بتایا کہ کوریائی فریق نے منصوبے کی مجموعی لاگت 300 ارب روپے ظاہر کی ہے جبکہ این ایچ اے کے مطابق موجودہ تخمینہ تقریباً 120 ارب روپے ہے۔ کمیٹی چیئرمین مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ کراچی ایلیویٹڈ ایکسپریس وے شہر کے لیے انتہائی اہم منصوبہ ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی میں رات کے وقت کنٹینرز کی آمدورفت شہریوں کے لیے شدید مسائل کا باعث بن رہی ہے، اس لیے منصوبے کی جلد تکمیل ضروری ہے۔ سیکرٹری اقتصادی امور نے کمیٹی کو بتایا کہ منصوبے کے لیے قرض کراچی پورٹ ٹرسٹ نے لینا تھا۔ انہوں نے تجویز دی کہ اگر کے پی ٹی خود منصوبہ مکمل نہیں کر سکتی تو اسے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یا پی ایس ڈی پی کے ذریعے مکمل کرنے کی تجویز دی جائے۔ قائمہ کمیٹی نے سیکرٹری اقتصادی امور کو ہدایت کی کہ وہ وزارت منصوبہ بندی، این ایچ اے اور کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ساتھ مشاورت کرکے منصوبے کے مالی اور انتظامی معاملات جلد از جلد حل کریں تاکہ اس اہم منصوبے پر عملی پیش رفت یقینی بنائی جا سکے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل