Wednesday, July 08, 2026
 

چین؛ سیلاب میں فارم سے 900 زہریلے سانپ پانی میں بہہ کر رہائشی علاقے میں گھس آئے

 



چین کے جنوبی صوبے گوانگ شی میں تباہ کن سیلاب نے جہاں جانی اور مالی نقصان کو جنم دیا وہیں ایک اور جان لیوا خطرے سے سب کو خوف زدہ کردیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے سیلاب میں سانپوں کی افزائش کے ایک فارم میں پانی داخل ہونے سے زہریلے کوبرا سمیت 900 سے زائد سانپ پانی میں بہتے ہوئے فرار ہوگئے۔ سیلابی ریلہ فارم کے احاطے میں داخل ہوا جس سے سانپوں کے پنجرے اور باڑے ٹوٹ گئے اور بڑی تعداد میں رینگنے والے یہ جانور سیلابی ریلے کے ساتھ قریبی آبادیوں اور کھلے علاقوں تک پہنچ گئے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ایک زہریلے کوبرا کو گدلے سیلابی پانی میں تیرتے اور سر باہر نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس کے بعد مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ متاثرہ علاقوں میں چند افراد کو سانپوں نے ڈسا بھی ہے تاہم حکام نے متاثرین کی درست تعداد جاری نہیں کی۔ سیلاب سے سڑکیں اور رابطے متاثر ہونے کے باعث زخمی افراد کو بروقت طبی امداد کی فراہمی میں بھی مشکلات پیش آئیں۔ مقامی انتظامیہ نے فوری طور پر ماہر ریسکیو اور وائلڈ لائف ٹیموں کو متحرک کر دیا جو فرار ہونے والے سانپوں کی تلاش اور انھیں محفوظ طریقے سے پکڑنے میں مصروف ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر گھروں، کھیتوں یا سیلابی پانی میں سانپ نظر آئے تو اسے پکڑنے یا مارنے کی کوشش نہ کریں بلکہ فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر سانپ سیلابی پانی کے ساتھ دور بہہ گئے ہیں جبکہ اب تک پکڑے جانے والے بیشتر سانپ غیر زہریلی آبی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم زہریلے کوبرا سمیت دیگر خطرناک سانپوں کی تلاش کا عمل ابھی جاری ہے۔ واضح رہے کہ ٹائفون مایساک رواں سال چین سے ٹکرانے والا پہلا طاقتور سمندری طوفان ہے جس نے جنوبی علاقوں میں شدید بارشوں، سیلاب، ڈیموں کو نقصان اور بڑے پیمانے پر انخلا کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل