Wednesday, July 08, 2026
 

نفس پر فتح کی داستان

 



حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ اور شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ کے مابین پیش آنے والا ایک ایمان افروز واقعہ انسانی نفس کی تہوں، بزرگانِ دین کے تقویٰ اور اخلاص کی اس انتہا کو ظاہر کرتا ہے جو تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ اس واقعہ میں علامہ بنوریؒ نے خود اعتراف فرمایا کہ انھوں نے زندگی بھر اپنے دامن کو حسد سے پاک رکھا لیکن ایک بار جب حضرت لاہوریؒ عمرہ کے سفر پر روانگی کے لیے کراچی تشریف لا رہے تھے تو پورے شہر میں ایک عجیب ارتعاش پیدا ہو گیا۔ مدرسے کے باورچی، طلبہ اور اساتذہ سے لے کر مفتیِ اعظم پاکستان مفتی محمد شفیعؒ اور ریشم جیسے لہجے کے مالک مولانا احتشام الحق تھانویؒ تک ہر شخص صرف حضرت لاہوری کے استقبال کی فکر میں مگن تھا۔ علامہ بنوری فرماتے ہیں کہ اس ہمہ گیر مقبولیت کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیے ان کے اندر کا انسان جاگ اٹھا اور دل میں یہ بات آئی کہ آخر ہر شخص سب کام چھوڑ کر ان کے پیچھے کیوں دیوانہ ہے۔ اسی کیفیت میں وہ خود بھی اسٹیشن پہنچے، حضرت لاہوری کا بازو پکڑ کر ایک طرف لے گئے اور نہایت معصومانہ و مخلصانہ جلال میں کہا کہ مجھے بھی وہ نسخہ بتائیے جس سے آپ لوگوں میں اتنے مقبول ہیں یا پھر اس مقبولیت کے ڈھونگ کو ختم کیجیے۔ حضرت لاہوریؒ نے مسکرا کر صوفیانہ و مخلصانہ جواب دیا کہ مولانا! میں نے دین کی خدمت کا آج تک کبھی کوئی معاوضہ یا دنیاوی فائدہ نہیں لیا، جہاں جاتا ہوں اپنے خرچ پر جاتا ہوں اور وہاں کا کھانا پانی تک قبول نہیں کرتا۔ یہ سننا تھا کہ علامہ بنوریؒ کے دل کی کایا پلٹ گئی، انھوں نے فوراًاپنے آبائی علاقے میں فون کر کے اپنی خاندانی جائیداد کا حصہ بیچا اور بتیس سالوں میں مدرسے سے لی گئی اپنی زندگی بھر کی تمام تنخواہ جائیداد کی فروخت سے حاصل کی گئی رقم واپس مدرسے کے فنڈ میں جمع کرا دی تاکہ ان کا عمل بھی اس بے لوث خدمت کے سانچے میں ڈھل سکے۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ والے اپنے نفس کی ہلکی سی لغزش پر بھی کتنا سخت محاسبہ کرتے تھے اور جیسے ہی سچائی سامنے آتی اپنی پوری زندگی کا رخ موڑ دیتے۔ یہ سچا واقعہ دراصل اس معاشرتی کینسر کی جڑ پر ضرب لگاتا ہے جسے ہم "حسد" کہتے ہیں اور جس میں آج کا ہر دوسرا انسان اور جسد گرفتار ہے۔ حسد ایک ایسی باطنی بیماری اور قلبی نجاست ہے جس میں انسان دوسرے کی نعمت، کامیابی، منصب یا عزت کو دیکھ کر اندر ہی اندر کڑھنے لگتا ہے اور یہ تمنا کرتا ہے کہ کسی طرح سامنے والے سے یہ نعمت چھن جائے۔ یہ بیماری انسان کے سکون کو غارت کر دیتی ہے اور معاشرے کے باہمی اعتماد کے تانے بانے بکھیر دیتی ہے۔ حسد دراصل ایک ایسی ذہنی اور باطنی قید ہے جس میں حاسد خود کو بند کر لیتا ہے، وہ اپنی نعمتوں پر شکر گزار ہونے کے بجائے دوسروں کی نعمتوں کا حساب رکھنے میں اپنی راتوں کی نیند اور دن کا سکون برباد کر دیتا ہے، جس سے نہ صرف اس کی دنیا جہنم بنتی ہے بلکہ اس کی روح بھی کھوکھلی ہوتی چلی جاتی ہے۔ قرآن مجید نے حسد کی مذمت کرتے ہوئے واضح لفظوں میں پوچھا ہے کہ کیا یہ لوگ اللہ کے اس فضل پر حسد کرتے ہیں جو اس نے اپنے بندوں کو عطا فرمایا ہے۔ گویا حسد کرنا دراصل اللہ کی تقسیم پر اعتراض کرنا ہے کہ باری تعالیٰ! تو نے یہ نعمت اس شخص کو کیوں دی اور مجھے کیوں محروم رکھا۔ ایک حاسد کا اصل جھگڑا اس شخص سے نہیں ہوتا جس سے وہ حسد کر رہا ہوتا ہے بلکہ اس کا جھگڑا معاذ اللہ احکم الحاکمین کی اس حکمت اور فیصلے سے ہوتا ہے جس کے تحت اس نے کائنات میں رزق، علم یا مرتبہ تقسیم کیا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم نے مومنین کو حسد کے شر سے بچنے کے لیے باقاعدہ "وَمِن شَرِّ حَاسِدٍاِذَا حَسَدَ" یعنی "اور میں پناہ مانگتا ہوں حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے" کی صورت میں ایک مستقل دعا سکھائی ہے، جو اس بات کی واشگاف دلیل ہے کہ حاسد کی بدنیتی، اس کی نظرِ بد اور اس کی منفی توانائیاں کسی بھی ہنستے کھیلتے فرد، خاندان یا پورے معاشرے کو مادی اور روحانی طور پر شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی اس اخلاقی برائی کے نقصانات اور ہلاکت خیزیوں کو نہایت شدت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ سوکھی لکڑی کو چاٹ جاتی ہے۔ ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے امت کو انتباہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تمہارے اندر پچھلی امتوں کی بیماریاں سرایت کر رہی ہیں، جن میں سے ایک حسد اور دوسری بغض و کینہ ہے اور یہ بیماریاں ایمان کو جڑ سے کاٹ دینے والی ہیں۔ ان فرامینِ صادقہ سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ جس دل میں حسد کی آگ دہک رہی ہو، وہاں اخلاص، تقویٰ اور ایمان کی شمع زیادہ دیر روشن نہیں رہ سکتی کیونکہ یہ آگ سب سے پہلے حاسد کے اپنے مخلصانہ اعمال کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ کائنات میں نافرمانی کا پہلا گناہ ہی حسد کی بنیاد پر ہوا تھا جب ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام پر رشک کرنے کے بجائے حسد کیا، ان کی فضیلت اور مٹی کے پتلے کے اس بلند مرتبے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، تکبر کا مظاہرہ کیا اور ہمیشہ کے لیے راندہ درگاہ اور ملعون ٹھہرا۔ اسی طرح زمین پر انسانی تاریخ کا پہلا قتل بھی اسی موذی مرض کا نتیجہ تھا جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کی قربانی بارگاہِ الٰہی میں قبول ہونے پر حسد کی آگ میں جل کر اس کا خون بہا دیا۔ تاریخ کے یہ عبرت ناک اور ہولناک واقعات گواہی دیتے ہیں کہ حسد جب اپنے عروج پر پہنچتا ہے تو انسان کو عقل اور بصیرت سے اندھا کر دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ قریب ترین اور مقدس رشتوں کے قتل و غارت گری تک اتر آتا ہے اور دنیا و آخرت دونوں برباد کر لیتا ہے۔ آج ہمارے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم مادی ترقی کی اندھی دوڑ میں اس قدر آگے نکل چکے ہیں کہ دوسروں کے بنگلے، گاڑیاں، عہدے اور سماجی مرتبہ دیکھ کر ہمارے دل تنگ ہو جاتے ہیں۔ اس مادی دور میں سوشل میڈیا کے طوفان نے اس باطنی آگ پر تیل کا کام کیا ہے، جہاں لوگ اپنی زندگی کے چیدہ چیدہ خوشنما لمحات اور نئی آسائشوں کی نمائش کرتے ہیں، جسے دیکھ کر کمزور ایمان والے افراد احساسِ کمتری اور حسد کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر چمکتی ہوئی چیز کے پیچھے سکون نہیں ہوتا۔ اس موذی بیماری سے نجات پانے کے لیے سب سے پہلے اپنے اندر قناعت پسندی پیدا کرنا ضروری ہے، انسان کو یہ دل سے تسلیم کرنا چاہیے کہ عزت، ذلت، رزق اور شہرت صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس کی تقسیم مکمل حکمت پر مبنی ہے، جب یہ یقین پختہ ہو جائے تو دل سے دوسروں کا حسد خود بخود رخصت ہو جاتا ہے۔ اس کا دوسرا علاج یہ ہے کہ جب بھی کسی کی کوئی نعمت نظر آئے تو حسد کے بجائے رشک کیا جائے اور "ماشاء اللہ تبارک اللہ" کہہ کر اس کے حق میں برکت کی دعا کی جائے تاکہ دل میں تنگی کے بجائے وسعت پیدا ہو۔ نفس پر جبر کرتے ہوئے حاسد کو چاہیے کہ وہ محفلوں میں اس شخص کی تعریف اور مداح سرائی کرے جس سے اسے حسد محسوس ہو رہا ہو، اس کے لیے تحائف کا تبادلہ کرے اور اس کے ساتھ مسلسل بھلائی کا معاملہ کرے۔ جب ہم اپنے نفس کی خواہشات کے خلاف جہاد کر کے حاسدانہ جذبات کو اخلاص، محبت اور دوسروں کی خوشی میں سچے دل سے خوش ہونے کی عادت میں تبدیل کریں گے تو روح کو وہ حقیقی اطمینان اور ابدی سکون حاصل ہوگا جس کا بے مثال نمونہ ہمیں علامہ بنوری اور مولانا لاہوریؒ کے اس واقعے میں نظر آتا ہے۔ نبوی اسوہ، اسلاف کے نقوشِ قدم اور بزرگانِ دین کا یہی وہ سنہرا طریقہ ہے جو ہمیں حسد کی ہلاکت خیز آگ سے نکال کر امن، سلامتی، باہمی محبت اور حقیقی فلاح کے راستے پر گامزن کر سکتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل