Loading
سندھ حکومت کی بہترین کارکردگی کا اندازہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے سانحہ کو نمٹانے سے ہوتا ہے۔ نبی بخش پولیس نے سانحہ گل پلازہ کا چالان پولیس کی پراسیکیوشن برانچ میں جمع کرایا ہے، اس چالان میں آگ لگنے کے واقعے کو حادثانی قرار دیا گیا ہے۔
چالان میں پولیس نے ایک دکاندار نعمت اﷲ اور اس کے 11سالہ بیٹے حزیفہ کو ملزم قراردیا ہے۔ گل پلازہ کمیٹی کے بعض ارکان کو ملزمان کی فہرست میںشامل کیا گیا ہے۔ اس چالان میں مزید تحریر کیا گیا ہے کہ پنجاب فارنزک لیب کی رپورٹ کے مطابق کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں پایا گیا۔
اس چالان کے مطابق آگ سب سے پہلے دکان نمبر 193 میں لگی۔ اس دکان کا مالک نعمت اﷲ اکثر اوقات دکان اپنے 11 سالہ بیٹے کے سپرد کرکے چلا جاتا تھا۔ حزیفہ کے ماچس کی تیلیاں جلا کر پھینکنے سے مصنوعی پھولوں میں آگ لگ گئی۔ نعمت اﷲ اور حزیفہ غفلت و لاپرواہی کے مرتکب قرار پائے۔ کم عمر بچے کو دکان پر کام سے نہ روکنا مارکیٹ یونین کی غفلت تھی۔ پولیس نے تمام ملزمان کو مفرور قرار دیا ہے۔ اس سانحہ میں 67کے قریب افراد جاں بحق اور بہت سے افراد زخمی ہوئے تھے۔
پیپلز پارٹی کی مخالف جماعتوں اور ماہرین نے بھی اس سانحہ کی ذمے داری پیپلز پارٹی کی حکومت پر عائد کی تھی اور اس سانحہ کی عدالتی تحقیقات پر زور دیا تھا ۔ سندھ کی حکومت نے اپنے وزراء اور سرکاری افسروں پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی تھی مگر جب منتخب نمایندوں اور سول سوسائٹی کے اراکین نے اس کمیٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تو سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ظفر راجپوت سے سے درخواست کی تھی کہ اس سانحہ کی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے کسی معزز جج کو نامزد کیا جائے۔ سندھ ہائی کورٹ نے یہ اعتراض اٹھایا تھا کہ حکومت سندھ کی سمری میں تحقیقات کے لیے T.O.Rs واضح نہیں ہیں۔
حکومت سندھ نے اعتراض دور کردیا۔ سندھ ہائی کورٹ کے معزز جج جسٹس فیصل آغا نے کئی ماہ تک اس سانحے کی تحقیقات کیں۔ انھوں نے عینی شاہدوں، ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین، سرکاری افسروں و دیگر کے بیانات ریکارڈ کیے اور گل پلازہ کی اجڑی عمارت کا معائنہ بھی کیا۔ جب جسٹس آغا نے رپورٹ حکومت سندھ کو بھیج دی تو وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنے 5 وزراء پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی جو اس رپورٹ کے مندرجات پر مسلسل غور و فکر کررہی ہے تاہم سندھ کی حکومت اس رپورٹ کو شائع کرنے کے لیے فی الحال تیار نہیں ہے۔
گل پلازہ سانحہ کی بنیادی وجہ ایک دکاندار اور اس کے بیٹے کی غفلت ہوسکتی ہے مگر اس کے علاوہ بہت سی وجوہات ہیں جن کی بناء پر اس طرح کے سانحات ہوتے ہیں۔ جسٹس آغا کے ٹریبونل کے سامنے یہ حقائق سامنے آئے کہ گل پلازہ کی آگ پر 36گھنٹوں تک قابو نہیں پایا جاسکا۔ اس عمارت کے بیشتر دروازے اور کھڑکیاں بند تھیں۔ یہ بھی انکشاف ہوا تھا کہ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے پہلے ایک منزلہ عمارت کی منظوری دی تھی مگر پھر دوسری منزل تعمیر کی گئی اور پھر ہر فلور پر نقشے کو نظرانداز کرتے ہوئے 200 کے قریب دکانیں تعمیر کردی گئیں۔
عمارت کے تہہ خانہ میں دکانیں بنائی گئیں۔ جو لوگ گل پلازہ خریداری کے لیے جاتے تھے وہ یہ شکایت کرتے ہیں کہ دکاندار اپنا سامان راستہ میں پھیلا کر رکھتے ہیں جس سے آنے جانے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران نے رشوت کی خاطر کبھی گل پلازہ کی انتظامیہ پر نقشہ سے ہٹ کر تعمیرات پر اعتراض نہیں کیا۔ سندھ حکومت کے الیکٹرک انسپکٹر کی ذمے داری ہے کہ ہر عمارت میں بجلی کی وائرنگ کا جائزہ لے۔ سائنس کی ترقی کی بناء پر بجلی کے کنکشن کے ساتھ بریکر لگائے جاتے ہیں جو کسی خرابی کی صورت میں اس حصے کی بجلی خود ہی منقطع کردیتے ہیں۔ شاید اس عمارت میں یہ نظام نصب نہیں کیا گیا تھا جس کی بناء پر آگ پھیلتی چلی گئی اور پوری عمارت کی بجلی بند کرنی پڑی جس کے نتیجے میں پوری عمارت میں بھگدڑ مچ گئی۔
اس عمارت میں باہر نکلنے کے متبادل راستے موجود نہیں تھے۔ دروازے اور کھڑکیاں بند ہونے سے بہت سے افراد پھنس کر رہ گئے۔ پوری عمارت میں نہ تو وینٹی لیشن کا نظام تھا نہ آگ بجھانے کا متبادل نظام موجود تھا۔ میتوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیشتر افراد دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے۔ فائر بریگیڈ کے عملے کے پاس دروازے اور دیواریں توڑنے کے لیے جدید آلات موجود نہیں تھے۔ آگ بجھانے والے عملہ کے پاس سیفٹی ماسک اور آکسیجن کے سلنڈر بھی نہیں تھے جس کی بناء پر یہ عملہ 36 گھنٹوں تک عمارت میں داخل نہ ہوسکا۔ فائر بریگیڈ کے حکام کے پاس ایک ہی راستہ تھا ۔
20 کلومیٹر دور صفورا ہائیڈرنٹ سے پانی منگوایا گیا۔ صفورا ہائیڈرنٹ یونیورسٹی روڈ پر قائم ہے جو بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کی بناء پر بہت خراب حالت میں ہے، اگر کراچی ایسٹ کے ٹریفک پولیس کے حکام صفورا ہائیڈرنٹ سے آنے والے ٹینکروں کے لیے راستہ بنا دیتے تو شاید یہ ٹینکر کچھ جلدی آجاتے۔ نارتھ ناظم آباد سے بھی ٹینکر منگوائے گئے جس کا فاصلہ 30 کلومیٹر سے کم نہیں ہوگا۔ انتظامیہ نے آگ بجھانے کے لیے ہیلی کوپٹر طلب نہیں کیا، شاید فائر بریگیڈ کے پاس ایک ہی اسنارکل ہے، اگر اسنارکل کی تعداد زیادہ ہوتی تو چھت سے آگ بجھانے کا کام فوری طور پر شروع ہوسکتا تھا۔
بادی النظر میں گل پلازہ سانحہ کی ساری ذمے داری حکومت سندھ کی ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ بلدیات کے افسروں، محکمہ بلدیات کے ذیلی اداروں، بلدیہ کراچی، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور کے الیکٹرک کے الیکٹرک انسپکٹر پر بھی اس کی ذمے داری عائد ہوتی ہے مگر حکومت نے بلدیہ کراچی کے سابق میونسپل کمشنر پر ہی سارا نزلہ گرا کر اپنا فریضہ پور کرلیا۔ یہ حقیقت ہے کہ جب 2012ء میں بلدیہ گارمنٹس فیکٹری میں آگ لگی تھی تو 250 مزدور جاں بحق ہوئے تھے جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔ ہر سال مختلف عمارتوں میں آتشزدگی کے واقعات ہوتے ہیں جن میں متعدد افراد جاں بحق ہوتے ہیں مگر حکومت سندھ کی ترجیحات میں کراچی شامل ہی نہیں ہے، اس بناء پر آگ لگنے کی ان وارداتوں کے ذمے داران کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔
ایک صحافی کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال 6جولائی کو لیاری میں ایک عمارت گرنے سے 27افراد جاں بحق ہوئے تھے، یہ عمارت غیر قانونی طور پر تعمیر ہوئی تھی۔ عوام کے دباؤ پر حکومت نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بعض افراد کو فوری طور پر گرفتار کیا تھا مگر پھر پولیس نے عدالت کے سامنے ایسا ناقص چالان پیش کیا کہ یہ افسران نہ صرف باعزت رہا ہوگئے بلکہ دوبارہ اپنے فرائض انجام دینے لگے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے جو مشق گزشتہ سال کی تھی وہ سانحہ گل پلازہ میں دوبارہ مشق کرنا نہیں چاہتی۔ گل پلازہ کا سانحہ ہوا۔ حکومت سندھ نے اس معاملے کو بھی فراموش کردیا اور پولیس چالان میں چند افراد پر آگ لگنے کی ذمے داری عائد کردی گئی ہے، یوں محکمہ کے وزیر اور بہت سے افسروں کے مستقبل تو محفوظ ہوگئے مگر آیندہ خدانخواستہ کوئی سانحہ ہوا تو مرنے والوں کی تعداد کتنی ہوگی، اس کا آسانی سے اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل