Loading
امریکا کی جانب سے ایران کے لیے تیل فروخت سے متعلق پابندیوں میں دی گئی رعایت محدود کیے جانے کے بعد ایران کا تقریباً 6 کروڑ 30 لاکھ بیرل خام تیل سمندر میں پھنس گیا ہے۔
امریکی جریدے بلومبرگ کے مطابق ویسل ٹریکنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے لاکھوں بیرل خام تیل سے لدے ٹینکرز خلیجِ فارس سے لے کر آبنائے ملاکا تک مختلف مقامات پر یا تو سفر کر رہے ہیں یا لنگر انداز ہیں، جس کے باعث ان کی ترسیل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی اور امریکا نے ایران کے خلاف بحری ناکا بندی مزید سخت کر دی تو تقریباً 5 کروڑ بیرل خام تیل اور ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات بھی برآمد نہ ہو سکیں گی۔
واضح رہے کہ امریکا نے گزشتہ روز آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کا الزام ایران پر عائد کرتے ہوئے ایرانی تیل کی فروخت پر پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی تھیں۔
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کو تیل فروخت کے لیے دی گئی رعایت کی مدت بھی کم کر دی ہے۔ اس سے قبل ایران کو 21 اگست تک تیل فروخت کرنے کی اجازت حاصل تھی، تاہم نئی پابندیوں کے تحت یہ مدت محدود کرکے 17 جولائی تک کر دی گئی ہے، جس سے ایران کی تیل برآمدات اور معیشت پر مزید دباؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل