Loading
ایران، امریکا امن عمل کو بچانے کیلیے پاکستان اور قطر سرگرم ہوگئے ہیں، تیزی سے بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق عباس عراقچی نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کی اور انھیں اقوام متحدہ کے چارٹر اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ سینئر امریکی حکام کے بیانات جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ معاہدے کے مزید پابند نہیں ہیں اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ واشنگٹن نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا کو کسی مہم جوئی کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے ملکی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے دفاع کیلئے تہران کے عزم کا اعادہ کیا ہے، یہ ٹیلی فونک رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب اسلام آباد نے امن کے عمل کو ناکام ہونے سے روکنے کیلیے پس پردہ سفارت کاری کو تیز کیا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان اور قطر امن عمل بچانے اور مذاکرات بحالی کیلیے تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں، سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنیوالے دن معاہدے کے مستقبل کیلیے اہم ہوں گے، اگرچہ ایران اور اور نہ ہی امریکا نے باضابطہ طور پر ایم او یو سے دستبرداری اختیار کی ہے تاہم دونوں فریق ایک دوسرے پر ایم او یو کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں جس سے ثالثوں کا کام مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے، شدید کشیدگی کے باوجود، پاکستانی حکام پرامید ہیں کہ مستقل سفارتی کوششیں امن عمل کے مکمل خاتمے کو روک سکتی ہے۔
علاوہ ازیں ترک خبر ایجنسی انادولو نے کہا کہ پاکستان اور قطر نے امریکا اور ایران سے رابطے کرکے دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ روک کر معاہدے کے تحت مذاکرات کی میز پر آئیں، پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ اس وقت جو ہو رہا ہے اس کی توقع نہیں تھی تاہم دونوں فریقین کے درمیان مسائل پیچیدہ اور انتہائی گھمبیر ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ پاکستان پراعتماد ہے کہ اس وقت جاری صورتحال مکمل جنگ کی صورت میں تبدیل نہیں ہوگی، دونوں فریق مکمل طور پر سمجھتے ہیں کہ مکمل جنگ ان کے مفاد میں نہیں ہے، ذرائع نے مزید بتایا کہ دونوں اطراف کے مسائل کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے مستقبل میں مزید جھڑپیں خارج از امکان قرار نہیں دی جاسکتی ہیں۔
تازہ جھڑپوں سے قبل امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کو ہفتے یا دو ہفتے میں ٹیکنیکل مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں ملنا تھا لیکن اب صورت حال مختلف ہے۔ اس وقت ثالثوں کی اولین ترجیح کشیدگی روکنا ہے۔ اسلام آباد کو جلد ہی مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کی توقع ہے۔
ذرائع نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ لبنان میں جہاں اسرائیلی فوج نے کارروائیاں جاری رکھی ہوئی تھیں، کا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد نہ ہونے میں دخل تھا۔ ایران بضد تھا کہ وہ جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد اور جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد آبنائے ہرمز بحال کرے گا جبکہ واشنگٹن کا مؤقف اس کے برعکس تھا کہ جو مسائل پہلے ہی حل ہوچکے ہیں انہیں حل طلب معاملات سے منسلک نہیں کرنا چاہیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل