Friday, July 10, 2026
 

ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی معاشی شرح نمو کا تخمینہ 3.7 فیصد تک گھٹا دیا

 



ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) نے نئے مالی سال کے لیے پاکستان کی معاشی شرح نمو (جی ڈی پی) کا تخمینہ کم کرکے 3.7 فیصد کر دیا جو جنوبی ایشیا میں افغانستان اور مالدیپ کے بعد تیسری کم ترین شرح ہے۔ بینک نے اسی دوران مہنگائی کی پیش گوئی بڑھا کر 8.3 فیصد کر دی ہے، جو بنگلہ دیش کے بعد خطے میں دوسری بلند ترین شرح ہے۔ اے ڈی بی کی شائع کردہ ایشین ڈیولپمنٹ آئوٹ لک رپورٹ میں پاکستان کو ان ممالک میں بھی شامل کیا گیا ہے جن کی امریکا کو برآمدات پر 24 جولائی 2026 سے 10 سے 12.5 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معاشی شرح نمو میں کمی کی بنیادی وجوہات توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت، ترسیلاتِ زر پر دباؤ اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے معیشت پر منفی اثرات ہیں۔  گزشتہ مالی سال میں بھی پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.7 فیصد رہی تھی۔اے ڈی بی نے رواں سال اپریل میں پاکستان کے لیے 4.5 فیصد شرح نمو کی پیش گوئی کی تھی، تاہم تازہ جائزے میں اسے تقریباً ایک فیصد کم کر دیا گیا ہے۔ اے ڈی بی کے مطابق مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث پاکستان میں مہنگائی کی پیش گوئی بڑھا کر 8.3 فیصد کر دی گئی ہے، جو بنگلہ دیش کی 8.8 فیصد متوقع شرح کے بعد جنوبی ایشیا میں دوسری بلند ترین سطح ہے۔  رپورٹ کے مطابق پاکستان کو افغانستان، بھوٹان، مالدیپ، نیپال اور سری لنکا کے مقابلے میں زیادہ معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔اے ڈی بی نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی نئی تجارتی پالیسی کے تحت پاکستان سمیت 60 ممالک کی برآمدات پر 10 سے 12.5 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔ اے ڈی بی کے مطابق ایشیا اور بحرالکاہل کے ترقی پذیر ممالک امریکی تجارتی پابندیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اور ان کے لیے مؤثر ٹیرف کی اوسط شرح 24.8 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو اپریل 2025 سے پہلے کی سطح سے تقریباً دوگنی ہے۔ دوسری جانب وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ پاکستان پہلے ہی جبری مشقت سے تیار یا حاصل کی گئی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کر چکا ہے، جبکہ ایک پاکستانی وفد اس وقت امریکہ میں موجود ہے تاکہ 24 جولائی سے مجوزہ اضافی ٹیرف سے بچنے کے لیے مذاکرات کو کامیاب بنایا جا سکے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل