Saturday, July 11, 2026
 

امریکا نے متحدہ عرب امارات کیلیے تجارت کے دروازے کھول دیے

 



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متحدہ عرب امارات کو برآمدات کے لیے خصوصی سہولتوں اور رعایت حاصل کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کرلیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے متحدہ عرب امارات کو برآمدی ضوابط میں نمایاں رعایت دیتے ہوئے اسے ایکسپورٹ ایڈمنسٹریشن ریگولیشنز کے تحت کنٹری گروپ اے-5 میں شامل کر دیا۔ امریکی محکمہ تجارت کے بیورو آف انڈسٹری اینڈ سیکیورٹی نے بتایا کہ نئی درجہ بندی کے تحت متحدہ عرب امارات کی حکومت اور منظور شدہ تجارتی ادارے اسٹریٹجک ٹریڈ آتھرائزیشن کے تحت متعدد اہل مصنوعات انفرادی برآمدی لائسنس کے بغیر درآمد کرسکیں گے بشرطیکہ وہ مقررہ شرائط اور امریکی برآمدی قوانین کی مکمل پابندی کریں۔ امریکی فیصلے کے بعد یو اے ای جدید امریکی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت چپس، بعض فوجی سازوسامان، تجارتی سیٹلائٹس، خلائی ٹیکنالوجی اور دوہرے استعمال کی متعدد اشیا تک پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان رسائی حاصل کرسکے گا۔ یہ سہولت ان شعبوں کے لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے جہاں جدید امریکی ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے جن میں تیل و گیس کی پیداوار، سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے منصوبے، سول جوہری توانائی، مصنوعی ذہانت، جدید کمپیوٹنگ، نیم موصل اور خلائی ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ اس فیصلے سے یو اے ای میں کام کرنے والی متعدد امریکی اور اماراتی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔  امریکی محکمہ تجارت کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کئی دہائیوں سے خطے میں واشنگٹن کا اہم دفاعی اور تجارتی شراکت دار رہا ہے جبکہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے دوران بھی اس نے امریکی مفادات کے فروغ میں کردار ادا کیا۔ محکمہ تجارت کے مطابق نئی درجہ بندی دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، دفاعی اور تکنیکی تعاون کو مزید مضبوط بنائے گی۔ اس فیصلے کے ساتھ متحدہ عرب امارات خلیجی خطے کا پہلا اور مسلم دنیا کا ترکیے کے بعد دوسرا ملک بن گیا ہے جسے اے-5 کی خصوصی درجہ بندی حاصل ہوئی ہے۔ دوسری جانب ایران نے امریکی فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کو دی گئی یہ رعایت دراصل ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں میں تعاون کا صلہ ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا نے برآمدی پابندیوں میں نرمی سیاسی اور عسکری حمایت کے بدلے کی ہے اور اس معاملے پر امارات کو جواب دہ ہونا چاہیے۔ امریکی فیصلے پر بعض امریکی قانون سازوں اور ماہرین نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حساس ٹیکنالوجی کی منتقلی سے قومی سلامتی کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں تاہم امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ مناسب حفاظتی اقدامات اور برآمدی نگرانی کے نظام کے باعث یہ خطرات قابو میں رہیں گے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل