Loading
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ڈیجیٹل اقدامات پر عمل درآمد نہ کرنے والے ٹیکس دہندگان کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے ایسے غیر مطابقت رکھنے والے یونٹس کے 6 ارب روپے سے زائد کے ریفنڈز روک دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جولائی 2026 سے نافذ کیے گئے ڈیجیٹل نظام اور بالخصوص کاروباری مقامات پر پروڈکشن مانیٹرنگ پر عمل نہ کرنے والے اداروں کے خلاف یہ پہلی بڑی کارروائی ہے جس کے تحت ریفنڈز کی ادائیگی معطل کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ فنانس ایکٹ 2026 کے تحت ایف بی آر کو ڈیجیٹل اصلاحات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے وسیع اختیارات حاصل ہوئے ہیں، جن کی بنیاد پر ادارہ مزاحمت کرنے والے یونٹس کے خلاف سخت قانونی اقدامات کر رہا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ اسی سلسلے میں ایف بی آر نے مخصوص شعبوں میں ویڈیو مانیٹرنگ سسٹمز یا ویڈیو اینالیٹکس کی تنصیب سمیت دیگر ڈیجیٹل اقدامات پر مکمل عمل درآمد کرانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ہدایات پر عمل نہ کرنے والے اداروں کے خلاف مزید سخت کارروائی بھی متوقع ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر نے پہلے مرحلے میں ایسے صنعتی یونٹس کے 6 ارب روپے سے زائد کے ریفنڈز روک دیے ہیں جنہوں نے پروڈکشن مانیٹرنگ اور دیگر ڈیجیٹل اقدامات پر عمل درآمد نہیں کیا، یہ کارروائی ان اداروں کے خلاف کی گئی ہے جو مقررہ ڈیجیٹل نظام اپنانے سے گریزاں رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ دوسرے مرحلے میں ایسے غیر مطابقت رکھنے والے یونٹس کی رجسٹریشن معطل کی جائے گی، درآمدات پر پابندی عائد کی جائے گی، کاروباری مراکز سیل کیے جائیں گے اور تیار شدہ مصنوعات بھی ضبط کی جا سکیں گی۔
ذرائع نے کہا کہ 31 جولائی 2026 تک وہ یونٹس اور فیکٹریاں جو اپنے کاروباری مقامات پر پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب سے مسلسل انکار کریں گی، انہیں مزید سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ذرائع کے مطابق ڈیجیٹل اقدامات پر عمل درآمد سے گریز کرنے والے یونٹس کے خلاف درآمدات پر پابندی، جرمانے، کاروباری مراکز کی سیلنگ، سیلز ٹیکس رجسٹریشن کی معطلی، بلیک لسٹنگ اور پیداواری مقامات سے مصنوعات کی کلیئرنس روکنے جیسے اقدامات کیے جائیں گے۔
اس حوال سے ذرائع کا کہنا تھا کہ تمباکو، سیمنٹ، چینی، کھاد اور ٹائلز کے شعبوں میں ڈیجیٹل اقدامات نافذ کیے جا چکے ہیں جہاں زیادہ تر مقامات پر پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم نصب کیا جا چکا ہے جبکہ آئرن اینڈ اسٹیل، پیکجڈ دودھ، مشروبات اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں بھی پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب کا عمل جاری ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر نے اس ضمن میں ترغیب اور سختی کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے جون 2026 میں 43 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کیے، جبکہ مالی سال 26-2025 کے دوران جولائی سے جون تک تقریباً 600 ارب روپے کے ریفنڈز ادا کیے گئے ہیں۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ دوسری جانب وہ یونٹس جو ڈیجیٹل اقدامات پر عمل درآمد میں ناکام رہے، انہیں جرمانوں، سیلز ٹیکس رجسٹریشن کی معطلی اور درآمدی مرحلے پر غیر مطابقت رکھنے والے درآمد کنندگان کو گرین چینل کی سہولت سے محروم کیے جانے جیسے اقدامات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل