Loading
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اس وقت ترکیہ کے اعلیٰ سطح کے سرکاری دورے پر ہیں اور دورے کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان تاریخی، اسٹریٹجک اور دفاعی تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے۔
بیان میں بتایا گیا کہ اس موقع پر ترکیہ اور پاکستان میں دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ترکیہ پہنچنے پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جو پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کا مظہر ہے۔
بیانمیں کہا گیا کہ دورے کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ترکیہ کی سیاسی اور عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں، ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیر دفاع یاشار گولر سے بھی ملاقات کی، ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی اور بدلتی ہوئی جغرافیائی اور سیاسی صورت حال میں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
President @RTErdogan received Chief of Army Staff and Chief of Defense Forces of Pakistan, Field Marshal Syed Asim Munir, at Ankara Airport. pic.twitter.com/jz6KzNIlVv
— Presidency of the Republic of Türkiye (@trpresidency) July 14, 2026
فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ترک جنرل اسٹاف ہیڈکوارٹرز آمد پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، بعد ازاں انہوں نے ترک جنرل اسٹاف کے سربراہ جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سے ملاقات کی، ملاقات میں علاقائی سلامتی کی صورت حال اور پیشہ ورانہ عسکری تعاون سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
اس موقع پر جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو نے پاکستان اور ترکیے کے درمیان دفاعی تعاون کے فروغ میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ترکش آرمڈ فورسز ڈسٹنگوشڈ سروس میڈل سے نوازا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ترک بری فوج کے ہیڈکوارٹرز کا بھی دورہ کیا جہاں ترک بری فوج کے کمانڈر جنرل میتن توکل نے ان کا استقبال کیا، انہوں نے انقرہ میں جدید ترکیہ کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کے مزار انیت کبیر پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی اور اتاترک کو خراج عقیدت پیش کیا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ یہ دورہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کثیرالجہتی دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، عسکری تعاون کو وسعت دینے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کے عزم کا مظہر ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل