Loading
کےٹو ائیرویز کے سمندر میں گر کر تباہ ہونے والے طیارے کے متاثرہ خاندانوں نےائیرلائن انتظامیہ پرتشویش کا اظہار اور حکومت سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ خاندانوں سےکوئی رابطہ نہیں کیاگیا اور خاموشی غیر ذمہ دارانہ نہیں بلکہ اس بات کی نشان دہی کرتی ہےکہ حقائق کو چھپایا جا رہا ہے۔
کےٹو ائیرویزکے اورماڑہ کے قریب سمندر میں گر کر تباہ ہونے والے ائیربس737 ساختہ اور پرواز1732کے حامل جہاز کے کپتان، معاون کپتان، انجینئرز اور لوڈ ماسٹر پر مشتمل متاثرہ خان دانوں نےمذکورہ معاملے پر مشترکہ طور پر اعلامیہ جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے ائیرلائن کی خاموشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئےحکومت سے انصاف کا مطالبہ کر دیا۔
متاثرہ خان دانوں کا کہنا تھا کہ کےٹو ائیرویزکے الم ناک فضائی حادثےکو کئی روز گزر چکے ہیں لیکن ائیرلائن انتظامیہ نے اب تک متاثرہ خاندانوں سےکوئی رابطہ نہیں کیا، نہ ہی کوئی معلومات فراہم کیں اور نہ ہی کسی قسم کی مدد کی۔
انہوں نے کہا کہ پورا ملک اس حادثے میں جانیں گنوانے والے عملے کے غم زدہ خاندانوں کےشانہ بشانہ ہے، مگر ائیرلائن حکام مکمل طور پر خاموش ہیں، یہ خاموشی صرف غیرذمہ دارانہ نہیں بلکہ اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ ائیرلائن کے لوگ کچھ چھپانےکی کوشش کر رہے ہیں۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں لگتا ہےکہ وہ اپنی انتظامی اور تیکنیکی غلطیوں سے بچنے کےلیے جواب دینے سےگریز کر رہے ہیں، اس لیے ائیرلائن انتظامیہ کی مسلسل خاموشی کے باعث متاثرہ خان دان براہ راست وزیراعظم پاکستان سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہیں۔
متاثرہ خاندانوں کے مطابق اس حوالے سے تین اہم مطالبات پیش کرتے ہیں کہ سرچ اور ریکوری آپریشن جاری رکھا جائے، حکومت اپنی تمام صلاحیتیں استعمال کرے اور دوست ممالک سےجدید گہرے سمندر میں تلاش اور ریکوری کا سامان حاصل کرے، تاکہ طیارے کا عملہ، ملبہ اور بلیک باکس سمندر سے نکالے جاسکیں، مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ائیرلائن کی انتظامیہ، آپریشنل نظام، تیکنیکی معاملات اور حادثےکی تمام ممکنہ وجوہات کی آزاد اور جامع وشفاف تحقیقات کی جائیں، قانونی کارروائی کی جائے،کےٹوائیرویزکے چیف ایگزیکٹو افسر کو ان کی خاموشی، ذمہ داری سےگریز اور اگر کسی قسم کی غفلت ثابت ہو تو اس پر قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔
متاثرہ خاندانوں کا مزید کہنا ہے کہ بحیرہ عرب کےگہرے سمندرمیں سرچ آپریشن اب بھی جاری ہے، سچ، شفافیت، جواب دہی اور اپنے پیاروں کےلیے انصاف چاہتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل