Loading
خیبرپختونخوا کی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے انکشاف کیا ہے کہ محکمہ صحت میں بے پناہ کرپشن ہورہی ہے جس کے ثبوت وزیراعلیٰ کو فراہم کردیے، شعبہ صحت کو بچانے کیلیے ہیلتھ بچاؤ تحریک شروع کررہے ہیإ۔
ان خیالات کا اظہار ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر اسفندیار بیٹنی نے اپنے ساتھی ڈاکٹروں کے ساتھ پریس کلب پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا وزیر صحت اور سیکرٹری ہیلتھ کو کرپشن کے ثبوت پیش مگر 40 روز گزرنے کے باوجود بھی کوئی عمل درامد نہیں ہوا بلکہ وزیر نے کرپشن کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کو روک کر حکومت کا اصل چہرہ سامنے رکھ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلی اپنے وعدے کے مطابق خیبر پختون خوا کے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں ہونے والی کرپشن کے ذمہ دار چہروں کو عوام کے سامنے لائیں اور اپنا وعدہ پورا کریں۔ بصورت دیگر پشاور پریس کلب اور نشتر ہال میں ایک کنونشن منعقد کر کے عوام کے سامنے خیبر پختون خوا کے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں ہونے والی کرپشن کے ثبوت سامنے رکھے جائیں گے اور ہیلتھ بچاؤ تحریک کا اغاز کیا جائے گا۔
پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر اسفندیار بیٹنی نے کہا کہ حیات اباد میڈیکل کمپلیکس پشاور میں کرپشن اور بے ضابدیوں پر ثبوتوں کے ساتھ پریس کانفرنس کی تو چیف منسٹر نے صرف سوشل میڈیا پر انکوائری کا کہا۔
انہوں نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے تمام ثبوت کے ساتھ انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہوئی لیکن ابھی تک وہ انکوائری رپورٹ سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ دوسری طرف حالیہ فکسڈ تنخواہ پر میڈیکل افیسر سیٹوں پر ثبوتوں کے ساتھ سب کچھ پیش کیا گیا لیکن چیف منسٹر صاحب صرف اور صرف سوشل میڈیا تک محدود ہے۔
ڈاکٹر اسفندیار بیٹنی نے کہا کہ مہنگائی کے لحاظ سے تمام کیڈرز کی تنخواہوں میں بغیر کسی احتجاج کے اضافہ کیا گیا لیکن ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے ہزاروں ڈاکٹرز کے ساتھ ہیلتھ سیکرٹریٹ میں احتجاج کیا گیا لیکن ہماری ایک نئی سنی گئی اور ڈاکٹروں کی تنخواہیں بجٹ میں بھی نہیں بڑھائی گئیں جبکہ ہم سے تو وعدہ کیا گیا تھا کہ 40 فیصد تنخواہیں بڑھائیں گے لیکن صوبائی بجٹ میں ڈاکٹروں کو دیوار سے لگایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وائی فائی کے لیے 50 کروڑ روپے فنڈ رکھا گیا، بیوروکریسی کے لیے تنخواہوں میں اضافے کے لیے فنڈ رکھا گیا ہے لیکن ہیلتھ سسٹم چلانے کے لیے اور خاص کر ہاؤس افیسر ٹریننگ میڈیکل افیسرز جو کہ اسپتالوں میں 24 گھنٹے ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں ان کے لیے کوئی فنڈز نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبے میں ڈاکٹروں کی چھ ہزار سے زائد اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہے ہماری درخواست ہے کہ ڈاکٹروں کو پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی کیا جائے اور بھرتی کے نام پر کرپشن کا بازار بند کیا جائے۔
ایم ٹی ائی اور صحت کارڈ پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر اسفندیار بٹنی نے کہا کہ اس وقت ایم ٹی ائی ہسپتالوں میں بدترین کرپشن جاری ہے ابھی تک کسی ایک اسپتال میں تھرڈ پارٹی کے ذریعے اڈٹ نہیں کیا گیا، چیئرمین سے لے کر ایم ڈی اور ایچ ڈی تک سب کو سفارش اور سیاست کے ذریعے بھرتی کیا گیا ہے جو مریضوں کے علاج سے زیادہ سیاست دانوں کی خوشامد میں مصروف رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جتنی بھی دو نمبر کمپنیاں ہیں وہ سب صحت کارڈ کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں، انہوں نے کہا کہ موجودہ چیف منسٹر سہیل افریدی صاحب جب پہلے پہلے ائے تو انہوں نے پانچ ہزار بیڈز کے نئے ہسپتال بنانے کا اعلان کیا جس کا ینگ ڈاکٹر ایسوسیی ایشن نے خیر مقدم بھی کیا لیکن افسوس کے ساتھ وہ سب دعوے صرف اور صرف سوشل میڈیا تک محدود رہے نئے اسپتال بنانے کے لیے حکومت صرف 27 کروڑ روپے بجٹ میں مختص کیا اس حساب سے چلا جائے تو یہ نیا ہسپتال 2040 میں پورا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ پہلے تو کرپٹ لوگوں کو محکمہ ہیلتھ سے ہٹایا جائے اور کرپٹ لوگوں کے خلاف ہونے والی انکوائریاں عوام کے سامنے لائی جائیں اور ڈاکٹروں کی بھرتیاں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کی جائیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹروں کی تنخواہیں بڑھائی جائیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل