Wednesday, July 15, 2026
 

امریکی ناکہ بندی کے باعث 2 ایرانی آئل ٹینکرز کراچی کی جانب گامزن

 



امریکا کی جانب سے ایران پر بحری پابندیوں اور ناکہ بندی سخت کیے جانے کے بعد دو ایرانی خام تیل بردار جہازوں نے اچانک اپنا رخ پاکستان کی جانب کرلیا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے میری ٹائم ڈیٹا کے مطابق ان دو آئل ٹینکرز کے نام رانی (Rani) اور امیل (Amil) ہیں جن میں مجموعی طور پر تقریباً 10 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل ہے۔ ان آئل ٹینکرز کو جب امریکی فورسز نے ایرانی بندرگاہ کی جانب جانے روک دیا تو اپنی منزل تبدیل کرکے یہ جہاز کراچی کی جانب روانہ ہوگئے جہاں ممکنہ طور پر لنگرانداز ہوسکتے ہیں۔ تاہم اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ یہ دونوں ٹینکرز اپنا خام تیل پاکستان میں اتاریں کیونکہ ایران سے براہِ راست تیل کی خریداری پاکستان کو امریکی پابندیوں کی زد میں لا سکتی ہے۔ ماہرین کے بقول زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ جہاز پاکستانی سمندری حدود کے قریب محفوظ مقام پر انتظار کریں اپنی اگلی منزل کا تعین کریں یا سمندر میں ہی دوسرے ٹینکروں کو تیل منتقل کردیں جو عالمی شپنگ میں ایک معروف طریقہ کار ہے۔ بحری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی کو بطور منزل ظاہر کرنے کا مقصد امریکی بحری نگرانی سے بچنا بھی ہوسکتا ہے۔ بعض اوقات تیل بردار جہاز اپنی اصل منزل ظاہر کرنے کے بجائے قریبی بندرگاہ کا نام درج کرتے ہیں تاکہ سفر کے دوران اپنی نقل و حرکت محدود حد تک پوشیدہ رکھ سکیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ٹینکر پاکستان کے ساحل کے قریب رہتے ہوئے حالات معمول پر آنے یا نئی ہدایات کا انتظار کریں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ جب ایرانی ٹینکر کراچی کے قریب دیکھے گئے ہوں۔ ماضی میں بھی جب امریکا نے ایران پر سخت بحری پابندیاں عائد کی تھیں تو ایران سے وابستہ متعدد خالی اور بھرے ہوئے ٹینکر کراچی کے ساحل سے دور بین الاقوامی سمندری حدود میں لنگر انداز رہے تھے۔ اس دوران بعض جہاز مناسب وقت کا انتظار کرتے تھے جبکہ کچھ بحری جہازوں کے درمیان سمندر میں ہی تیل کی منتقلی بھی کی جاتی رہی تاکہ پابندیوں کے اثرات کم کیے جا سکیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تاحال پاکستان نے ان ٹینکروں کے کراچی آنے یا انھیں کسی قسم کی سہولت فراہم کرنے کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل