Loading
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب سے برطانیہ کی پاکستان میں ہائی کمشنر جین میریٹ نے ملاقات کی اور دونوں فریق نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں قریبی رابطے برقرار رکھنے اور دوطرفہ شراکت داری مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
وفاقی وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کے درمیان ملاقات میں پاکستان کی معاشی صورت حال، حکومت کے جاری اصلاحاتی ایجنڈے اور پاکستان اور برطانیہ کے درمیان اقتصادی و ترقیاتی تعاون کو مزید فروغ دینے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کے ساتھ ساتھ وفاقی بجٹ 27-2026 کی کامیاب منظوری، مالیاتی نظم و ضبط کے لیے جاری اقدامات اور معاشی استحکام برقرار رکھتے ہوئے پائیدار اقتصادی ترقی کے لیےحکومتی پالیسیوں کا جائزہ لیا گیا۔
محمد اورنگزیب نے برطانوی ہائی کمشنر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی، فیس لیس، مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے مربوط اور رسک بیسڈ نظام متعارف کرا رہی ہے، جس کا مقصد شفافیت میں اضافہ، صوابدیدی مداخلت میں کمی، ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنا اور محصولات میں اضافہ ہے۔
ملاقات میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات، منتخب سرکاری اداروں کی نج کاری اور سرکاری اداروں میں گورننس، کارکردگی اور خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے جاری اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ اصلاحات پاکستان کی طویل المدتی معاشی مضبوطی اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دینے کے لیے ناگزیر ہیں۔
برطانوی ہائی کمشنر نے پاکستان کی معاشی استحکام کی جانب پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے برطانیہ کے مسلسل تعاون کا اعادہ کیا۔
دونوں فریقین نے تجارت، سرمایہ کاری، مالیاتی منڈیوں اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا اور اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان قریبی روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
وزیر خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مسلسل اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ مسلسل روابط کے ذریعے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں قریبی رابطے برقرار رکھنے اور دوطرفہ شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل