Loading
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعدد صارفین نے 14 جولائی 2026 کو ویڈیوز شیئر کیں، جن کے کیپشن کے مطابق ویڈیو میں یمن کے حوثیوں کے حملوں کے بعد سعودی عرب کا ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ دکھایا گیا ہے۔
حوثی ترجمان یحییٰ سریع کی جانب سے سعودی عرب کے ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کا دعویٰ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد ویڈیوز تیزی سے وائرل ہوئیں، جنہیں اس مبینہ کارروائی کے مناظر قرار دیا گیا۔ تاہم آزاد تحقیقاتی اداروں، اوپن سورس ماہرین اور بین الاقوامی میڈیا کی جانچ پڑتال سے واضح ہوا ہے کہ یہ ویڈیوز موجودہ واقعے سے متعلق نہیں بلکہ مختلف پرانے واقعات کی ہیں، جنہیں غلط تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے۔
یہ غلط معلومات ایسے وقت میں پھیلنا شروع ہوئیں جب 13 جولائی 2026 کو یمنی حکومت نے صنعاء انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے کو نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کا مقصد ایرانی ایئرلائن ’’ماہان ایئر‘‘ کی اس پرواز کو روکنا بتایا گیا جس میں تہران سے ایک حوثی عہدیدار واپس آ رہا تھا۔ اسی کشیدگی کے دوران حوثیوں نے ابھا ایئرپورٹ پر حملے کا دعویٰ کیا، جس کے بعد مختلف پرانی ویڈیوز کو نئی کارروائی سے منسوب کر کے شیئر کیا جانے لگا۔
View this post on Instagram
سب سے زیادہ وائرل ہونے والی ایک ویڈیو، جسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر 13 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا گیا، دعویٰ کیا گیا کہ یہ سی سی ٹی وی فوٹیج اس لمحے کی ہے جب حوثیوں کا میزائل ابھا ایئرپورٹ پر گرا۔ تاہم سی این این اور الجزیرہ کی اوپن سورس تحقیقاتی ٹیموں نے تصدیق کی کہ یہ ویڈیو حقیقی ضرور ہے لیکن اس کا تعلق جون 2019 میں ہونے والے اس حملے سے ہے، جس میں سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق 26 افراد زخمی ہوئے تھے۔
اسی طرح ایک اور وائرل ویڈیو، جس میں بڑے پیمانے پر آگ اور دھماکے دکھائی دیتے ہیں، جو دراصل مارچ 2022 میں سعودی آرامکو کے ذخیرہ گاہ میں لگنے والی آگ کی ریکارڈنگ نکلی۔ ایک اور کلپ، جسے میزائل حملے کے بعد کے مناظر قرار دیا گیا، حقیقت میں 2025 میں یمن کی حدیدہ بندرگاہ پر اسرائیلی حملے کی ویڈیو تھی، جبکہ کنگ خالد ایئر بیس پر مبینہ ڈرون حملے کی ایک ویڈیو مارچ 2026 سے ہی سوشل میڈیا پر گردش کررہی تھی۔
ان وائرل دعوؤں کے بعد سعودی وزارت داخلہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ غیر مصدقہ ویڈیوز، افواہوں یا نامعلوم ذرائع سے آنے والی معلومات پر یقین نہ کریں اور قومی سلامتی سے متعلق خبروں کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کریں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل