Wednesday, July 15, 2026
 

امریکا کیساتھ امن مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں، تمام توجہ حملوں کو ناکام بنانے پر ہے؛ ایران

 



ایران نے فوری طور پر امن مذاکرات کے کسی بھی امکان کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تمام تر توجہ امریکی حملوں کا بھرپور جواب دینے پر مرکوز ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اس وقت ہمارے پاس مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہماری تمام توجہ ملک کے دفاع پر ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایران امریکی حملوں کا مضبوط اور فیصلہ کن جواب دیتا رہے گا اور جب تک جارحیت جاری رہے گی ایران اپنے دفاعی اقدامات سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران کسی ایسے معاہدے کی پابندی نہیں کرے گا جس میں دوسرا فریق اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ہمارا بنیادی اصول ہے اور ہم آئندہ بھی اسی پر عمل کریں گے۔ ہمارا مؤقف ہے کہ امریکا نے جنگ بندی کے آغاز ہی سے اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی۔ ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ امریکا نے کشیدگی کم کرنے کے بجائے مسلسل فوجی کارروائیوں کے ذریعے صورتحال کو مزید خراب کیا جس کے باعث سفارتی پیش رفت کے امکانات بھی متاثر ہوئے ہیں۔ دریں اثنا ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہنگام جزیرے کو نشانہ بنایا ہے۔ اگرچہ امریکی حکام نے اس حملے کی فوری تصدیق نہیں کی تاہم حالیہ دنوں میں امریکی سینٹرل کمانڈ ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں، میزائل تنصیبات اور دفاعی اہداف پر متعدد حملوں کا اعلان کرچکی ہے۔ خیال رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار منتقل ہوتی ہے۔ اس علاقے میں جاری فوجی کارروائیوں نے عالمی توانائی کی منڈیوں اور بحری تجارت کے حوالے سے خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل