Loading
تعلیمی معاملات یا اس کی ترقی پر حکومت،پالیسی ساز اور تعلیمی ماہرین کے درمیان موجود بیانیہ میں ایک بڑا تضاد دیکھنے کو ملتا ہے اور یہ تضاد اس پہلو کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ بطور حکومت تعلیم کے عمل میں ہم کہاں کھڑے ہیں یا ہماری ترجیحات کیا ہیں۔
2010ء میں جب 18ویں ترمیم کے سیاسی ،انتظامی اور مالی اختیارات وفاق کے مقابلے میں صوبوں کو دیے گئے جس میں تعلیم کا شعبہ بھی شامل تھا تو یہ ہی خیال تھا کہ اب تعلیم کے شعبہ میں موجود مسائل کا حل بہتر طور پر صوبائی حکومتیں بڑے وسائل کی موجودگی میں کرسکیں گی۔لیکن اب تک یہ صوبائی خود مختاری کا عمل تعلیم کے میدان میں ہمیں بہتر نتائج نہیں دے سکا ہے ۔
حال ہی میں پاکستان کے تعلیمی بحران بالخصوص پرائمری کی تعلیم سے جڑے معاملات پر ’’ سول سروس اکیڈمی‘‘ کی ایک پالیسی رپورٹ جاری ہوئی ہے۔ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کیمپس میں قائم 5پالیسی ساز تجزیہ کار گروپس کی تیار کردہ اس رپورٹ میں چاروں صوبوں،اسلام آباد،گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر کی تعلیمی پالیسیوں کی موثریت، کارکردگی،مساوات،اخلاقیات اور قابل عمل ہونے کے پیمانوں پر تجزیہ کیا گیا ہے ۔
اس پالیسی رپورٹ کے چھ اہم نکات ہیں۔اول ہم کئی دہائیوں سے جی ڈی پی میں تعلیم کے میدان میں چار فیصد بجٹ کے وعدے پر عمل نہیں کرسکا اور آج ہم 1.07فیصد خرچ کررہے ہیں اور اس میں مزید کمی ہو رہی ہے ۔دوئم، اس وقت تمام تر تعلیم کی ترقی کے باوجود ملک کی سطح پر ڈھائی سے تین کروڑ بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں یا اسکولوں سے باہر ہیں۔سوئم، تعلیمی ایمرجنسی کے نتائج کا نہ ملنا،مالی وسائل کی کمی، کمزور تعلیمی اور انتظامی طرز حکمرانی،گہرے ساختی مسائل،غیر مربوط انتظامی ڈھانچے،صوبوں کی غیر مساوی استعداد جیسے مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں۔
چہارم، صوبوں کی سطح پر دیکھیں تو پنجاب میں بنیادی مسئلہ اسکول سے باہر بچوں کی بڑی تعداد کا ہے ۔جب کہ جنوبی پنجاب میں شرح خواندگی اور بالخصوص لڑکیوں کی کمی کا ہونا ہے ۔جنوبی پنجاب کے بعض اضلاع پچاس فیصد سے زیادہ ناخواندہ ہیں۔سندھ میں تعلیمی نظام کا انہدام ہونا اور موسمیاتی آفات سے دوچار ہونا،کے پی میں دگرگوں حالات،دشوار گزار راستے اور خواتین ٹیچرز کی کمی جب کہ بلوچستان میں کمزور سطح کے اداروں کی موجودگی،وسیع فاصلے اور غیر فعال اسکول کی موجودگی ہے ۔پنجم آج بھی تعلیمی اعداد وشمار میں شہری اور دیہی تقسیم اور سہولتوں کا بڑا فقدان دیکھنے کو ملتا ہے۔ششم، بچوں کی تعلیم سے دوری میں غربت،تعلیمی اداروں کا گھر سے دور ہونا،صنفی امتیاز،محروم طبقات کی ضروریات سے ناکافی آگاہی اور تعلیم کے بارے میں منفی سماجی رویے شامل ہیں۔
اصل میں یہ رپورٹ مجموعی طور پر ہمارے تعلیمی نظام کی عکاسی کرتی ہے کہ ہم اس عمل میں کتنے سنجیدہ ہیں اور اس سنجیدگی میں کتنے سنجیدہ اقدامات عملی طور پر اٹھاتے ہیں۔تعلیم کے نام پر وفاق اور صوبوں میں بڑے بڑے اداروں کی تشکیل،سرکاری وسائل کی موجودگی،عالمی اداروںسے جو تعلیم کے نام پر بڑی امداد ملتی ہے بالخصوص لڑکیوں یا محروم طبقات کی تعلیم اور ان کو دی جانے والی سہولتوں کے باوجود مطلوبہ نتائج کا نہ ملنا خود ایک بڑے بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ اس ملک میں تعلیم کے اس بحران کو کیسے حل کیا جاسکتا ہے۔ایک بحران اعداد وشمار سے جڑا ہوا ہے جہاں ہمارے نمبرز کا کھیل ہمیں پیچھے کی طرف دھکیلتا ہے ۔دوسرا مسئلہ تعلیم کے معیار کا ہے یعنی کوالٹی پر مبنی تعلیم، تیسرا بحران بنیادی نوعیت کی سہولیات کی فراہمی سے جڑا ہوا ہے۔
یہ سب کچھ اس وقت تک ممکن نہیں ہوگا جب تک ریاست اور حکومت کی ترجیحات میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی او ر ایک مضبوط سیاسی اور مالی کمٹمنٹ کا پہلو دیکھنے کو نہیں مل سکے گا۔تعلیم کا موجودہ بحران محض جذباتی نعروں اور دعوؤں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے عملی طور پر ایک واضح روڑ میپ درکار ہے لیکن جب ریاست اور حکمرانی کا نظام خود سے خود کو تعلیم سے علیحدہ کررہا ہے اور تمام معاملات کو نجی شعبے میں دے کر آگے بڑھنا چاہتا ہے تو پھر حکومت کی ذمے داری کا عمل بہت پیچھے رہ جاتا ہے اور ان کو کیسے جوابدہ بنایا جاسکتاہے۔ایک ایسے نظام میں جہاں حکومت کا ریگولیٹ کا نظام بھی غیر منصفانہ ہو وہاں نجی شعبہ کو کیسے شفافیت کے نظام کے ساتھ جوڑا جاسکتا ہے۔
جہاں تک اس رپورٹ میں تعلیمی ایمرجنسی کی بات کی گئی ہے تو اس میں یہ درست تجزیہ شامل ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس عمل کو سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کیا۔18ویں ترمیم کے بعد خیال تھا کہ صوبائی حکومتو ں کی کارکردگی سیاسی ،انتظامی اور مالی وسائل کے باوجود وہ تعلیم کے بنیادی اہداف حاصل نہیں کرسکے۔یہ جو دعوی کیا گیا تھا کہ18ویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتیں زیادہ ذمے داری کو بنیاد بنا کر تعلیم میں بہتری پیدا کریں گی۔لیکن بڑے مالی وسائل کے باوجود صوبائی حکومتوں کی ناکامی خود جوابدہی کے زمرے میں آتی ہے۔آج بھی صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر بہت سے سوالیہ نشان موجود ہیں جو اس حالیہ رپورٹ میں موجود مختلف اعداد وشمار کی بنیاد پر دیکھے جاسکتے ہیں۔تعلیمی ایمرجنسی کا کوئی جامع روڈ میپ نہ تو وفاقی حکومت اور نہ ہی صوبائی حکومت کے پاس ہے۔ہم نے پائیدار ترقی اہداف2015 تا 2030 طے کررکھے ہیں اور اس میں ہم عالمی دنیا کو بھی جوابدہ ہیں۔
اس تناظر میں بھی ہماری کارکردگی اور اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ آج بھی ہم تعلیم اور بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے بہت پیچھے کھڑے ہیں۔ہم تعلیم پر سرمایہ کاری کو اپنے لیے بوجھ سمجھتے ہیں اور اس کی بجائے دیگر معاملات پر توجہ دے کر تعلیم دشمنی کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں۔دوسری جانب پرائمری تعلیم کی بہتری کا بنیادی نقطہ مقامی سیاسی یا انتظامی دونوں ڈھانچے ہوتے ہیں ۔اس میں خود مختار مقامی حکومتوں کا نظام بنیادی کردار ادا کرتا ہے اور مقامی منتخب نمائندے مقامی تعلیم کی بنیاد پر بہتر فیصلے کرکے تعلیم کی بہتری اور اس کی فیصلہ سازی میں شریک ہوتے ہیں۔مقامی حکومتوں کا نظام ضلعی سطح پر سالانہ ترقیاتی نظام کی بنیاد پر اپنے منصوبے بناتا ہے اور دیکھتا ہے کہ اس کے ضلع کی تعلیمی ضروریات اور ترجیحات کیا ہیں اور اسی بنیاد پر تعلیم پر سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔لیکن ہمارا سیاسی نظام خود مختار مقامی حکومتوں کے نظام کے خلاف ہے اور اسی وجہ سے مقامی سطح پر ہمارا بنیادی یا پرائمری تعلیمی نظام بہت زیادہ بگاڑ کا شکار نظر آتا ہے۔
اگر ہم جنوبی ایشیا کے ممالک کی بنیاد پر بھی دیکھیں تو ہمارے بہت سے اعداد وشمار ان ممالک سے بھی پیچھے ہیں۔ ہماری تعلیمی ترقی کے بحران کا معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم اس میدان میں کوتاہی کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ہماری پارلیمنٹ اور تعلیم کے نام پر بننے والے تمام کوکس بھی ناکامی سے دوچار ہیں۔ایک طرف حکومت کی ناکامی اور دوسری طرف طاقت ور بیوروکریسی کا مضبوط نظام دونوں نے عملی طور پر تعلیم کی بہتری میں جو کام کرنا چاہیے تھا وہ نہیں کیا ہے ۔چھوٹے شہروں اور گاؤں کی سطح پر موجود تعلیم کا ناقص ڈھانچہ بنیادی نوعیت کے سوالات ہماری پالیسی سازی کی سطح پر اٹھاتا ہے کہ اتنے مالی وسائل کے باوجود ہم بنیادی نوعیت کی تعلیمی سہولتوں سے محروم ہیں۔
یہ سوال بھی اہم ہے اس ملک میں جتنے بھی عالمی اداروں کی سطح سے مالی فنڈ تعلیم اور بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم کی بہتری کی صورت میں سامنے آئے ان کا مالی یا سیاسی آڈٹ کون کرے گا اور خود جو عالمی ممالک پاکستان جیسے ممالک کو بغیر کسی بہتر کارکردگی کے مسلسل مالی معاونت دے رہے تھے ان کو بھی جوابدہ بنانے کی ضرورت ہے ۔ تمام تر وعدوں کے باوجود جی ڈی پی میں تعلیم کا چار فیصد بجٹ نہ رکھنے کا ذمے دار کون ہے اور کون حکمران طبقات کو جواب دہ بنائے گا۔آج بھی جو تسلسل کے ساتھ تعلیم کیے بجٹ میں کمی ہو رہی ہے یا اس پہلو کو بجٹ کی سیاست میں نظرانداز کیا گیا اس کا ہر سطح پر احتساب ضروری ہے۔ہماری تعلیم کے نظام میں نگرانی،شفافیت اور جوابدہی کے نظام کے کمزور پہلو اور سیاسی مداخلت کی بنیاد پر چلنے والے نظام نے ہماری تعلیمی بربادی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
سیاسی جماعتیں اس تباہی کی براہ راست ذمے دار ہیں جن کی ترجیح کی سطح پر کبھی تعلیم اہم نہیں رہی اور نہ ہی اس ملک میں کوئی بڑی سیاسی ،سماجی اور علمی تحریک تعلیم کے نظام کی بہتری کی صورت میں دیکھنے کو ملی اور اسی طرح میڈیا میں تعلیم کا مسئلہ محض ایک ردعمل کی سیاست تک محدود رہا ہے۔جب تعلیم کی بہتری کے نام پر ہمیں حکومت کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی تحریک دیکھنے کو نہیں ملے گی تو پھر تعلیم کی بہتری کے امکانات کیسے پیدا ہوسکیں گے۔اس لیے اب بھی وقت ہے کہ ہماری ریاست اور حکمرانی سے جڑے طبقات تعلیم کی بنیاد پر معاشرے کی تشکیل نوکریں۔کیونکہ تعلیم کی بہتری کا عمل معاشرے کو آگے لے کر جاتا ہے جب کہ ہم خود کو تعلیم سے دور کرتے جا رہے ہیں۔اس لیے ہمیں خود کو جنجھوڑنا اور خود کو ہی بدلنا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل