Loading
پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ملک میں خواتین کی ہاکی کے فروغ کے لیے ایک اور بڑا سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد اسلام آباد میں پہلی بار 'نیشنل انڈر-21 ویمنز ہاکی چیمپئن شپ' کا کامیاب انعقاد کیا گیاجس میں ملک بھر سے 16 ٹیموں کی تقریباً 300 باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
اس ٹورنامنٹ کو پاکستان میں ویمنز ہاکی کی بحالی کی جانب ایک تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
چیمپئن شپ کے دوران ہی انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن (ایف آئی ایچ) کی جانب سے پاکستان کو عمان میں شیڈول ایک بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں جونیئر ویمنز ٹیم بھیجنے کی فوری دعوت موصول ہوئی۔
وقت کی شدید قلت کے باوجود، پاکستان ہاکی فیڈریشن نے محض تین سے چار دنوں کے اندر ٹیم کا انتخاب مکمل کیا اور اسے عمان روانہ کیا۔
اگرچہ کھلاڑیوں کو ایک ساتھ ٹریننگ کرنے اور ٹیم کومبینیشن بنانے کا بہت کم وقت ملا،لیکن انہوں نے میدان میں بے پناہ عزم، جذبے اور دلیری کے ساتھ پاکستان کی نمائندگی کی۔
میچوں کے نتائج تو پاکستان کے حق میں نہیں رہے لیکن نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی انتہائی حوصلہ افزا رہی۔
پاکستانی ٹیم نے ٹورنامنٹ کے چار میں سے دو میچوں میں 'پلیئر آف دی میچ' کا ایوارڈ اپنے نام کر کے ثابت کر دیا کہ ان کے پاس ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن خواتین کی ہاکی کی ترقی کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
پی ایچ ایف نے انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن سے درخواست کی ہے کہ وہ جونیئر کھلاڑیوں کے لیے مینٹورز اور ماہر کوچز فراہم کرے۔
اس کے ساتھ ساتھ، پاکستان کی نیشنل ہائی پرفارمنس کوچنگ ٹیم آنے والے مہینوں میں ان کھلاڑیوں اور ملک بھر کی دیگر نوجوان لڑکیوں کو ٹریننگ اور رہنمائی فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔
ترجمان پی ایچ ایف کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک شروعات ہے۔ ان نوجوان کھلاڑیوں کے جوش و خروش نے ہمارے اس یقین کو مزید پختہ کر دیا ہے کہ پاکستان میں خواتین کی ہاکی کا مستقبل انتہائی روشن ہے۔
انشااللہ، جب اگلی نیشنل انڈر-21 ویمنز ہاکی چیمپئن شپ منعقد ہوگی تو ہم صرف 16 ٹیموں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ہمارا ہدف اس مقابلے کو پاکستان کے تمام خطوں سے 32 ٹیموں تک پھیلانا ہے تاکہ ہماری بیٹیوں کو اپنے صوبوں اور آگے چل کر بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کے زیادہ سے زیادہ مواقع مل سکیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل