Loading
موٹروے پر کم بیلنس اور نان ایم ٹیگ گاڑیوں سے 50 فیصد اضافی وصولی کے خلاف کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت مواصلات اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) سے رپورٹ اور جواب طلب کر لیا۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے جوڈیشل ایکٹیویزم پینل کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔
حکم نامے کے مطابق درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ 3 جون 2025 کو جرمانے اور اضافی وصولی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جبکہ این ایچ اے نے یہ نوٹیفکیشن نیشنل ہائی وے اتھارٹی ایکٹ 1991 کی سیکشن 10(2)(vii) کے تحت جاری کیا، حالانکہ مذکورہ سیکشن این ایچ اے کو ایسا اختیار نہیں دیتی۔
درخواست گزار کے مطابق یہ نوٹیفکیشن ایکٹ اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت نے وزارت مواصلات اور این ایچ اے کو 15 روز میں رپورٹ اور پیراوائز کمنٹس جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے درخواست کی ایک نقل لاء افسر کو فراہم کرنے کی ہدایت کی، تاکہ عدالتی حکم پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ عدالت نے لاء افسر کو آئندہ سماعت پر معاونت کی بھی ہدایت کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل